خطبات محمود (جلد 26) — Page 67
$1945 67 خطبات محمود تیسری بدلتی چلی جاتی ہیں۔وہاں سورۃ بقرۃ میں پہلا پارہ گزر کر بھی ایک ہی مضمون تھا اور وہی مضمون پھر دوسرے پارے میں بھی چلتا چلا جاتا ہے اور تیسرے پارہ کے نصف میں جا کر ختم ہو تا ہے۔مگر یہاں قدم قدم پر مضمون بدلتا ہے۔یورپین مصنفین کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب مضمون کے لحاظ سے نہیں بلکہ جو لمبی سورتیں ہیں وہ پہلے رکھ دی گئی ہیں اور جو چھوٹی سورتیں ہیں وہ آخر میں رکھ دی گئی ہیں۔یہ بات غلط ہے اور ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآن مجید کی سورتوں میں مضمون کے لحاظ سے ترتیب پائی جاتی ہے اور اس ترتیب کے مطابق سورتیں رکھی گئی ہیں۔اور اس دعویٰ کی وجہ سے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم وہ ترتیب ثابت کریں۔اور یہ ترتیب کا مضمون اتنا مشکل ہے کہ آج تک اس پر کوئی کتاب نہیں لکھی گئی جس میں بالاستیعاب یہ بحث کی گئی ہو کہ قرآن مجید کی تمام سورتوں میں کلی طور پر کس طرح ترتیب پائی جاتی ہے۔یہ اتنا مشکل مضمون ہے کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب جیسے آدمی جو زمانہ آخر کے چوٹی کے عالم تھے اور جنہوں نے قرآن مجید کی بڑی خدمت کی ہے انہوں نے بھی آخر لکھ دیا کہ قرآن مجید کے مضامین ایسے ہیں جیسے نمائش میں مختلف اشیاء جمع کر کے رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔گو یا مکمل ترتیب ثابت کرنے سے وہ بھی قاصر رہے۔پس چونکہ آج تک اس قسم کی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی جس میں قرآن مجید کی ترتیب کے متعلق مکمل بحث کی گئی ہو اور ہمارے عقیدہ کی رو سے چونکہ قرآن مجید میں کلی ترتیب پائی جاتی ہے اس لحاظ سے آخری پارہ کی تفسیر سب سے اہم اور سب سے مشکل ہے۔کیونکہ پہلے حصہ میں تو کہیں اڑھائی پاروں یا دو پاروں یا ڈیڑھ پارہ کے بعد جا کر سوچنا پڑتا تھا کہ اب اس سورۃ کی پہلی سورۃ سے کیا ترتیب ہے گویا مضمون کی یگانگت ہمیں سوچنے سے بے نیاز کر دیتی تھی اور اڑھائی پارہ تک یا ڈیڑھ پارہ تک یا ایک پارہ تک یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اب اس مضمون کی ترتیب کیا ہے۔کیونکہ ایک ہی مضمون چلتا چلا جاتا تھا۔مگر یہاں نام کو تو ایک پارہ ہے مگر سینتیں دفعہ ٹھہر کر دیکھنا پڑتا ہے کہ اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ سے کیا ہے اور مضمون کے لحاظ سے کیا تر تیب پائی جاتی ہے۔اور اس سورۃ کو اس سے پہلی سورۃ کے بعد کیوں رکھا ہے۔پس اس لحاظ سے آخری پارہ کی تفسیر سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ مشکل۔