خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 54

$1945 54 خطبات محمود جانیں اور اپنی اولادمیں دین کے لئے پیش کریں۔میں نے گزشتہ سے گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں یہ تحریک کی تھی کہ جن کے ہاں کوئی اولاد نہ ہو یا ان کی اولاد چھوٹی ہو یا صرف لڑکیاں ہی ہوں لڑکے نہ ہوں وہ کم از کم اتنا ہی کریں تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے وظائف مقرر کریں۔اس تحریک میں اس وقت تک تین وظائف کے وعدے آچکے ہیں۔بعض لوگوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر کوئی غریب ہو اور وہ اکیلا وظیفہ کے لئے رقم نہ دے سکے تو کیا وہ اور لوگوں کے ساتھ مل کر دے سکتا ہے؟ تو اس کے متعلق بھی میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہاں اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص اکیلا وظیفہ مقرر کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اس میں حصہ لے سکتا ہے۔اس وقت تک تین وظائف کے وعدے آچکے ہیں۔ایک تو میاں محمد احمد خاں صاحب جو میرے بھانجے ہیں انہوں نے ایک وظیفہ کے لئے نقدر قم جمع کرا دی ہے اور ایک وظیفہ دینے کے لئے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے وعدہ کیا ہے اور انہوں نے دفتر محاسب کو لکھ دیا ہے کہ میری امانت میں سے یہ رقم ادا کر دی جائے۔اور ایک میری بیٹی اور ان کے خاوند نے وعدہ کیا ہے وہ مجھے کہتے تھے کہ ہم اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔اور میں نے انہیں کہا تھا کہ دفتر میں لکھوا دو۔غالبا انہوں نے لکھوا دیا ہو گا۔میں نے یہ نیت کی ہے کہ اگر خداتعالی زیادہ کی توفیق دے گا تو اس سے زیادہ دوں گا لیکن انشاء اللہ دس سال تک کم از کم پانچ طالبعلموں کا میں سالانہ وظیفہ دوں گا اور میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میں زندہ رہوں تو میں اس وعدہ کو پورا کرنے کا خود پابند رہوں گا اور اگر میں مر جاؤں تو میری جائیداد میں سے پہلے اس رقم کو پورا کر لیا جائے اور بعد میں پھر وہ میرے ورثاء میں تقسیم ہو۔میر امنشاء ہے کہ ہر سال چھ ہزار روپیہ میں داخل کرتا چلا جاؤں تا پہلے سالوں کی تعلیم پر جو کم رقم خرچ ہو گی اور بعد میں زیادہ خرچ ہو گی۔پہلے وقت کا بچا ہوا روپیہ دوسرے وقت میں کام دے۔یہ وعدہ دس سال میں پچاس طالبعلموں کو تعلیم دلانے کا ہوتا ہے جس پر قریباً ایک لاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔باقی میں نے اپنی اولاد اپنی طرف سے دین کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔آگے کام کا ثواب تو انہوں نے خدا سے ہی لینا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ