خطبات محمود (جلد 26) — Page 437
$1945 437 خطبات محمود کالج کے لڑکے کالج کے لڑکوں سے بہت حد تک اثر قبول کرتے ہیں۔اگر تمام طالب علم قادیان میں کالج کی تعلیم کے لئے نہ آسکیں تو لاہور میں پڑھنے والوں کے لئے احمد یہ ہوسٹل کو بڑھایا جاسکتا ہے اور سو دو سو جتنی بھی ضرورت ہو احمد یہ ہوسٹل میں ان کے لئے انتظام کیا جا سکتا ہے اور ان کو اپنی نگرانی میں رکھا جاسکتا ہے۔جب ہوسٹل کے لڑکے دوسرے کالجوں کے لڑکوں سے ملیں گے تو غیر احمدی لڑکے ضرور ان سے متاثر ہوں گے۔اگر ایک ان پڑھ باپ اپنے لڑکے کو جو کالج میں پڑھتا ہے نماز کی تلقین کرے تو اس پر اثر نہیں ہو تا کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ میرا باپ تو ان پڑھ ہے اس کو کیا علم ہے کہ نماز پڑھنے سے فائدہ ہوتا ہے یا نقصان۔لیکن جب ایک ایم اے کا طالب علم بی اے کے طالب علم کو نصیحت کرے کہ نماز پڑھا کرو تو وہ ضرور اس بات کی طرف توجہ کرے گا۔کیونکہ وہ اسے تعلیم میں اپنے سے زیادہ قابل سمجھتا ہے اور وہ سمجھے گا کہ یہ شخص جو مجھ سے زیادہ قابل ہے زیادہ عقلمند ہے۔یہ نماز پڑھتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی نماز میں کوئی خوبی ہے۔جب تک ہمارا اپنا کالج نہ تھا اس وقت تک اس سکیم کا موقع نہ تھا۔مگر اب موقع آچکا ہے۔اور دوستوں کا فرض ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ طالب علم تعلیم الاسلام کالج میں پڑھنے کے لئے بھیجیں۔اگر زیادہ تعداد میں طالب علم پڑھنے کے لئے نہ آئیں تو وہ غرض جس کے لئے کالج کھولا گیا تھا پوری نہیں ہو سکتی اور کالج کا کھولنا بالکل بے فائدہ اور عبث ہو جاتا ہے۔اس لئے اب ضرورت ہے اس بات کی کہ زیادہ سے زیادہ طالب علم ہمارے ہائی سکولوں میں تعلیم حاصل کریں اور اس کے بعد کالج میں داخل ہوں۔اس کے لئے میں صدر انجمن کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر نظارت تعلیم و تربیت کو ایک دو انسپکٹر دے۔جو سارے پنجاب کا دورہ کریں اور جو اضلاع پنجاب کے ساتھ دوسرے صوبوں کے ملتے ہیں اور ان میں احمدی کثرت سے ہوں اُن کا بھی دورہ ساتھ ہی کرتے چلے جائیں۔یہ انسپکٹر ہر ایک گاؤں اور ہر ایک شہر میں جائیں اور لسٹیں تیار کریں کہ ہر جماعت میں کتنے لڑکے ہیں؟ ان کی عمریں کیا ہیں؟ ان میں کتنے پڑھتے ہیں اور کتنے نہیں پڑھتے ؟ جو نہیں پڑھتے ان کے والدین کو تحریک کی جائے کہ وہ انہیں تعلیم دلوائیں اور کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ لڑکے ہائی سکولوں میں تعلیم حاصل کریں۔اور ہائی سکولوں سے پاس ہونے