خطبات محمود (جلد 26) — Page 36
$1945 36 خطبات محمود کا کام کون کرے گا۔پس ان عزتوں کو جو دنیا کی چند روزہ عزتیں ہیں جانے دو۔تا محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی کھوئی ہوئی عزت واپس آئے۔آخر اس دنیا کی زندگی اگلے جہان کی زندگی کے مقابلہ میں حقیقت ہی کیا ر کھتی ہے کہ کوئی خیال کرے کہ اگر اس دنیا میں مجھے عزت نہ ملی تو میری زندگی برباد ہو جائے گی۔اس دنیا کی زندگی اور اگلے جہان کی زندگی میں اتنی نسبت بھی تو نہیں جتنی کہ ایک آدمی اپنی پچاس ساٹھ سالہ عمر میں ایک دفعہ پاخانہ جاتا ہے اور وہاں پاخانہ پونچھتا اور اسے دھوتا ہے۔کیا یہ وقت جو پاخانہ صاف کرنے اور دھونے پر لگاتا ہے اس کی وجہ سے وہ کہہ سکتا ہے اس کی زندگی برباد ہو گئی؟ اس دنیا کی زندگی آخرت کی غیر محدود زندگی کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی جتنی کہ ایک آدمی کی زندگی میں ایک دفعہ پاخانہ جانے میں جو وقت صرف ہوتا ہے۔پس اگر اس زندگی میں خدا تعالیٰ کے لئے کسی کو کسی عزت سے محروم بھی رہنا پڑے تو اس میں گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔گھبر اہٹ اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ انگلی زندگی پر ایمان نہیں ہو تا۔اس غیر محدودزندگی کے مقابلہ میں چالیس یا پچاس سال کی زندگی کی حیثیت تو اتنی بھی نہیں جتنا کہ ایک دفعہ آدمی کا طہارت کرنے پر وقت صرف ہوتا ہے۔اور یہ وقت بادشاہ بھی صرف کرتے ہیں اور غلام بھی۔پھر اگر اس دنیا میں عزتیں نہ ملیں تو کیوں کوئی یہ خیال کرے کہ اس کی زندگی بر باد ہو گئی۔میں خدام الاحمدیہ سے بھی اور انصار اللہ سے بھی یہ کہتا ہوں کہ میں نے ان کو سیاسیات سے الگ رہنے کا حکم دیا ہوا ہے مگر یہ آواز جو میں نے بلند کی ہے اس کا سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اخلاقیات سے ہے۔پس وہ جہاں بھی جائیں اور جہاں بھی انہیں موقع ملے اس آواز کو دہرائیں اور ہر قوم کے لوگوں سے یہی کہیں کہ صلح کر لو۔محبت کے ساتھ اپنے اختلافات طے کر لو۔کانگرس، مسلم لیگ، ہندو مہاسبھا، زمینداره لیگ، اکالی، خاکسار سب کے لئے ان کے پاس یہی الفاظ ہوں اور وہ سب کو یہی کہیں کہ آپس کے جھگڑے محبت کے ساتھ طے کر لو۔اور ایک دوسرے کے ساتھ صلح کر لو اور پھر ہمیں چھوڑ دو کہ ہم تبلیغ دین کا کام کریں۔اس مضمون کا دوسرا حصہ بھی ہے مگر اب وقت اتنا ہو گیا ہے کہ اگر میں نے فورا