خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 409

$1945 409 خطبات محمود کر سکتی۔ذلیل سے مراد یہ ہے کہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں اس کی ترقی محدود ہے کیونکہ زمینداری ایک ملک کے ساتھ تعلق رکھتی ہے دوسرے ملک میں نہیں جاسکتی۔مگر صنعت و تجارت دوسرے ملکوں میں جاسکتی ہے۔مسلمانوں کا یہودی باوجو د تھوڑا ہونے کے جو مقابلہ کر لیتے ہیں اس کی یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے ہاتھ میں تجارت ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قوم پر اپنا اثر ڈال لیتے ہیں۔لیکن مسلمانوں کے ہاتھ میں تجارت نہیں اس لئے ان کی کوئی نہیں سنتا۔پس اس نظام تجارت کے ذریعہ سے ہم نہ صرف اپنی جماعت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں اور غیر قوموں کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔ایک دفعہ محکمہ تجارت والوں نے مجھ سے پوچھا کہ بعض غیر احمد ی اور ہندو ہم سے مدد چاہتے ہیں کیا ہم ان کی مدد کر دیں ؟ میں نے ان سے کہا کہ ہاں خواہ کسی قوم سے تعلق رکھتا ہو اُس کی مدد کرنی چاہیے۔ہمارا کام تو ہے ہی یہی کہ ہم ہر قوم کی مدد کریں۔لیکن پہلے مسلمانوں کے لئے کوشش کرنی چاہیے اس کے بعد دوسروں کے لئے۔خواہ کوئی ہندو ہو ، سکھ ہو ، مسلمان ہو ، عیسائی ہو ہم اس کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔مدد کرتے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں یہ عظیم الشان موقع ہے اس قسم کی تجارت کا موقع جو شاید آئندہ ہیں سال تک پیدا نہ ہو۔اس لئے جو سپاہی افسر ڈسچارج ہوتے چلے جائیں اُن کو چاہیے کہ اپنی زندگی مذکورہ بالا طریق پر وقف کریں۔اس رنگ میں نہیں کہ سارے کا سارا وقت دین کے لئے پیش کریں بلکہ اس رنگ میں کہ ہم نے کوئی کام کرنا ہے۔بجائے اس کے ہم خود کام کریں۔تحریک جدید کی ہدایت کے ماتحت جس مقام پر ہمیں جا کر کام کرنے کے لئے کہا جائے گا اور جو کام ہمارے لئے تجویز کیا جائے گا ہم اُس جگہ جائیں گے اور اس کام کو کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔باقی مال اُن کا ہو گا، کوشش اُن کی ہو گی۔اخلاقی مد داُن کو سلسلہ دے گا اور مادی بھی جس حد تک توفیق ہو گی۔اگر اس رنگ میں پانچ چھ ہزار آدمی مل جائیں اور مل جانے چاہئیں تو ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اگر ہم اتنے آدمی ایک سال کے اندر کھڑے کر دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے اپنی تبلیغ کو سو گنے بڑھا دیا۔اس وقت ہمارے پچاس مبلغ ہندوستان میں کام کر رہے ہیں۔اگر پانچ ہزار نوجوان اس طرح