خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 407

$1945 407 خطبات حمود وہ سوال کرتے ہیں کہ کہاں کہاں ہمارا مال پھیلا سکتے ہو۔اگر وہ کہے کہ جناب اپنی دکان میں۔تو تاجر کہے گا مجھے اس کو مال دینے کی کیا ضرورت ہے جس کی تجارت کا کوئی پھیلاؤ نہیں۔یہ جو دوسرا آدمی ایجنسی لینے آیا ہے اُس کی دکان کی دو سو شاخیں ہیں یا پچاس یا سو شاخیں۔وہ سارے ہندوستان میں اِس کام کو پھیلا سکتا ہے ہم اُس کو دیں گے تم کو نہیں دیں گے۔تو یہ ساری باتیں معقول ہیں۔ہم ان کا رد نہیں کر سکتے۔اگر ہم آرگنائزیشن کریں گے تو تجارت کے ایسے راستے کھل جائیں گے کہ جن کی وجہ سے ہم بیشتر قسم کی تجارت پر قابو پاسکیں گے۔اور ہمیں اس کے لئے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔وہ نوجوان جو فوج سے فارغ ہوں گے اور وہ نوجوان جو نئے جوان ہوئے ہیں اور ابھی کوئی کام شروع نہیں کیا میں اُن سے کہتا ہوں کہ اپنی زندگی وقف کریں۔ایسے رنگ میں نہیں کہ ہمیں دین کے لئے جہاں چاہیں بھیج دیں چلے جائیں گے۔بلکہ ایسے رنگ میں کہ ہمیں جہاں بھجوایا جائے ہم وہاں چلے جائیں گے اور وہاں سلسلہ کی ہدایت کے ماتحت تجارت کریں گے۔اس رنگ میں ہمارے مبلغ سارے ہندوستان میں پھیل جائیں گے۔وہ تجارت بھی کریں گے اور تبلیغ بھی۔ہمیں بعض باتوں کی وجہ سے امید ہے کہ ایسے کام نکل سکیں گے جن کی وجہ سے ہم نئے کام کرنے والوں کو بہت سی امداد دے سکیں گے۔اخلاقی لحاظ سے بھی اور مادی لحاظ سے بھی تنظیم کی وجہ سے ہم اخلاقی طور پر کامیاب تاجر ہیں۔ان پر زور ڈالیں گے کہ وہ اپنے بھائیوں کو کھڑا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے کھڑے ہونے سے وہ خود کھڑے ہوں گے۔اس وقت آگے آنے والے نوجوانوں کے لئے ترقی کا بہت سا امکان ہو گا۔یہ چھ سات ہزار نوجوان تجارت کا کام کریں گے اور ساتھ تبلیغ بھی کریں گے اور اس طرح یہ سات ہزار مبلغ ہمیں مفت میں مل جائیں گے۔یہ کتنی بڑی بات ہے۔ہم اُس دن کے امیدوار ہیں کہ ہمیں پانچ ہزار ساری زندگی وقف کرنے والے مبلغ مل جائیں بلکہ لاکھ یا اِس سے بھی زیادہ آدمی مل جائیں۔مگر جب تک وہ دن نہیں آتے ہمیں اپنی تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے جو ذرائع میسر ہیں اُن کو تو استعمال کرنا چاہیے اور تاجروں کو باہر بھیجنا چاہیے۔ہم زمینداروں سے تو نہیں کہہ سکتے کہ تم فلاں جگہ پر چلے جاؤ۔کیونکہ وہ زمین کو ساتھ نہیں لے جا