خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 392

$1945 392 خطبات حمود پیچھے سے بھی پھٹ گیا ہے، نئے گرتے کا تو سوال ہی نہیں، اس پھٹے ہوئے گرتے پر پیوند لگانے کے لئے بھی مجھے کپڑا نہیں ملتا۔اب یہ حال ہماری جماعت کا ہے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ اس رؤیا کی بناء پر توجہ کرتے اور دل میں یہ خیال نہ کر لیتے کہ یہ ایک دنیوی امر ہے اس کا دین کے ساتھ کیا تعلق ہے اور گھروں میں سوت کا تا جانے لگتا اور کپڑا بنوایا جانے لگتا تو تم دیکھ لیتے کہ دنیوی تکالیف کا دور ہو جانا تو الگ رہا ہمارے سلسلہ کی طرف سے ایک عظیم الشان پروپیگنڈا ہو تا اور تبلیغ بھی خوب ہو جاتی۔ہزارہا احمدی شہروں میں جب باوجو د کانگرس کی مخالفت کے کھدر پہنے ہوئے نظر آتے ، سارے نہ سہی اُن لوگوں کو نکال کر جن کے پاس پہلے سے کافی کپڑے موجو د تھے باقی جن کے پاس کپڑے نہیں تھے اور جنہوں نے بڑی بڑی تکالیف اٹھا کر بلیک مارکیٹ سے کپڑا خریدا اگر ایسے لوگ کھدر پہنتے تو کتنا پراپیگینڈا ہوتا اور ہماری جماعت کے لئے کتنا مفید ہوتا۔مثلاً ایک بیرسٹر کورٹ میں، کھدر کے کپڑے پہن کر جاتا تو بیسیوں بیر سٹر پوچھتے کیا آپ کا نگر سی ہو گئے ہیں؟ آپ تو کانگرس کی مخالفت کیا کرتے تھے اور کھدر کا کپڑا پہنے کا تو گاندھی جی کا حکم تھا آپ نے کھدر کیوں پہنا شروع کر دیا؟ اور وہ کہتے ہمارے امام نے خواب دیکھی ہے کہ کپڑے کی قلت ہونے والی ہے اس لئے انہوں نے کہا ہے کہ ان غریبوں کے لئے قربانی کر کے آسودہ حال لوگ کھدر پہننا شروع کر دیں تو ایک سال کے اندر اندر دس بیس لاکھ آدمی اِس خواب کے گواہ ہو جاتے۔اور 1943ء کے آخر اور 1944ء کے شروع میں جب کپڑے کی قلت ہوتی تو لکھو کھا آدمی ایک دوسرے سے کہتے دیکھو وہ خواب پوری ہو گئی، دیکھو وہ خواب پوری ہو گئی۔تو بظاہر کھد ر جسمانی چیز ہے اور کھدر پہنا دین کا جزو نہیں، ہم اس بارہ میں کانگرس کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔اگر دینی جزو ہو تا اس کی مخالفت کیوں کرتے۔مگر اس خواب کی بناء پر اس کا پہننا اشاعت اسلام کا موجب ہو جاتا اور اشاعت دین کا موجب ہو جاتا۔لاکھوں انسان کہتے ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے احمدیوں کو کھدر پہنے ہوئے دیکھا تھا اور جب اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے یہ خواب سنائی تھی۔دیکھو قبل از وقت شائع کی ہوئی خواب بعض اوقات نسبتی طور پر ادنی ہوتی ہے لیکن اس کا اثر زیادہ ہو جاتا ہے۔مثلاً میں نے جنگ کے شروع ہونے سے بھی پہلے رویا دیکھا تھا اور