خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 345

+1945 345 خطبات محمود اکٹر اکڑ کر کیوں چلتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا یا رَسُولَ اللہ ! کفار جبل ابو قبیس پر بیٹھے ہمیں دیکھ رہے ہیں اور بخار نے ہماری کمریں توڑ دی ہیں جس کی وجہ سے ہم اچھی طرح چل بھی نہیں سکتے۔میں ڈرتا ہوں ایسا نہ ہو کہ ہمیں کبڑے چلتا دیکھ کر کفار کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اب ہم مسلمانوں کو مار لیں گے۔اس لئے جب میں اس جہت میں آتا ہوں جہاں سے اہل مکہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں تو میں سینہ تان لیتا ہوں اور اکڑ کر چلتا ہوں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ہم خواہ کتنے ہی بیمار ہوں ان کے مقابلہ کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے اس کی چال کو بہت پسند کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔جس طرح افراد کی زندگیوں میں بعض دور آہستگی کے آتے ہیں اور بعض بھاگ دوڑ کے۔اسی طرح قوموں کی زندگیوں پر بھی مختلف مواقع آتے ہیں۔کبھی ایسا موقع آتا ہے جب ستی اور غفلت کو برداشت کیا جا سکتا ہے اور کبھی ایسا موقع آتا ہے جب سستی اور غفلت کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔اور اس بات کا کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا کہ کمزور مرتے ہیں یا طاقتوریا سارے ہی تباہ ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا بندہ جس کے ہاتھ میں اُس وقت جماعت کی باگ ڈور ہوتی ہے بیدردی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت اپنے ماننے والوں کی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے انہیں حکم دیتا چلا جاتا ہے کہ فلاں کام اِس طرح کرو اور فلاں کام اس طرح۔اور اُس جماعت کے امام اور رہنما کا فرض ہوتا ہے کہ جس طرح تنور میں لکڑیاں ڈالی جاتی ہیں یا جس طرح دانے بھوننے والا بھٹی میں پتے ڈالتا چلا جاتا ہے اسی طرح وہ لڑائی کے تنور میں اپنی جماعت کو جھونکتا چلا جائے۔اُس وقت اُس کے دل میں رحم کا پیدا ہونا خود اُس کے لئے اور اُس کی قوم کے لئے ظلم ہوتا ہے۔اور اگر وہ رحم سے کام لے تو وہ رحم ، رحم نہیں ہو گا بلکہ ظلم ہو گا۔ابھی پچھلے دنوں مجھے ایک دوست نے لکھا کہ ہماری جماعت کو چاہیے کہ یتامی اور بیوگان کی خبر گیری پر باقی کاموں کو چھوڑ کر زیادہ زور دے۔میں نے انہیں جواب دیا کہ یہ جہاد کا وقت ہے جبکہ ادنیٰ امور کی بجائے اہم امور کو اپنے سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔(لیکن پھر بھی ہم بیتامی اور بیو گان کی خبر گیری کرتے ہیں۔اور ہماری جماعت قریباً پچاس ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ ان پر خرچ کرتی ہے۔اتنی چھوٹی سی جماعت اپنی دوسری ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے