خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 341

$1945 341 خطبات محمود خدا تعالیٰ کی محبت انسان کے دل میں داخل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی محبت اس کی حیات کا جزو بن جائے یہ اور بات ہے۔فرض کرو لیلی مجنوں کا وجود دنیا میں کوئی وجو د تھا تو پھر لیلیٰ کو دنیا میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمیوں نے دیکھا ہو گا۔اب جہاں تک اُس کی آنکھوں کا سوال ہے کہ وہ چھوٹی تھیں یا بڑی، جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ اُس کی آنکھوں میں سفیدی کتنی تھی اور سیاہی کتنی، جہاں تک اُس کی گردن کا سوال ہے کہ لمبی تھی یا چھوٹی، جہاں تک اُس کے جسم کی مناسبت کا سوال ہے کہ اُس کے اعضاء میں تناسب تھا یا نہیں، اس کے ہاتھ پاؤں لمبے تھے یا چھوٹے، اُس کا رنگ سیاہ تھا یا سفید یہ چیزیں سب دیکھنے والوں کے لئے برابر تھیں۔دوسرے لوگوں کے دیکھنے اور مجنوں کے دیکھنے میں بڑا فرق تھا۔دوسرے لوگ لیلی کو دیکھتے تو وہ اُن کے دماغ تک ہی رہ جاتی لیکن مجنوں نے دیکھا اور دیکھتے ہی وہ اُس کے دل میں اتر گئی۔لوگوں نے لیلیٰ کو دیکھا تو کہا اچھی ہے اور آگے چل دیئے لیکن مجنوں نے اسے دیکھا تو اس نے سب کچھ چھوڑ کر ساری عمر لیلی کے دروازے پر گزار دی۔یہی فرق اُن اشخاص میں ہوتا ہے جو دماغ یا دل سے کسی بات کو مانتے ہیں۔سینکڑوں آدمی ایسے ہوتے ہیں جو دماغ سے تو ایک بات کو مانتے ہیں لیکن دل سے اُس کو نہیں مانتے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اُس کے لئے کوئی قربانی اور ایثار نہیں کر سکتے۔جیسے لوگ بعض شاعروں کے شعروں کو پڑھتے اور اُن کی تعریف کرنے لگتے ہیں مگر ان کے دل میں ان شعروں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔اس کے مقابل میں ایک ماں بھی اپنے اکلوتے بیٹے کی تعریف کرتی ہے مگر دونوں کی تعریف میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔کجا ایک آدمی کا شاعر کے شعر کو پسند کرنا اور گجا ماں کا اپنے بچے کو پسند کرنا۔اگر غالب کے شعروں کو پسند کرنے والے اور اس کے شعروں کی تعریف کرنے والے ایک آدمی کو دو تھپڑ مار کر پوچھا جائے کہ بتاؤ غالب کے شعر کیسے ہیں؟ تو وہ فورا کہہ دے گا کہ بہت بڑے ہیں۔لیکن اگر ماں کو قتل بھی کر دیا جائے تو بھی وہ اپنے بچے کی تعریف کرے گی۔دنیا میں ہزاروں مائیں مرتی ہیں اور بچے اُن کی گود میں ہوتے ہیں۔دنیا اُن کو مار سکتی ہے مگر بچے کی گردن میں حمائل 3 ہونے والے ہاتھوں کو نہیں چھڑا سکتی۔تو دل اور دماغ کی کیفیت میں بڑا فرق ہے۔اور وہی ایمان انسان کی نجات کا موجب ہوتا ہے جو دماغ سے اتر کر دل میں بھی داخل ہو جائے۔