خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 331

$1945 331 خطبات محمود طرح قومی کامیابی نام ہے خدا تعالیٰ اور مومنوں کے ارادہ کے مل جانے کا۔خدا تعالیٰ تو ارادہ کر چکا ہے اب ہماری کامیابی صرف یہ ہے کہ ہم بھی ارادہ کر لیں۔اگر ہم ارادہ کر لیں گے تو ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔لوگ کامیابی کے لئے پہلے خود ارادہ کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے آگے ناک رگڑتے ہیں اور پھر بھی وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔لیکن ہمارے لئے کتنی سہولت ہے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ پہلے سے ہو چکا ہے اب ہمارا ارادہ جو چھوٹی سی چیز ہے باقی ہے اس کے بعد دنیا فتح ہو جائے گی۔پس چاہیے کہ ہم ارادہ کر لیں اور ہر کام کے لئے اور ہر قربانی کے لئے تیار ہو جائیں۔کیونکہ جو لوگ قربانی کے لئے تیار نہیں ہوتے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہماری قربانی کی مثال ایسی ہی ہے جیسے خدا تعالیٰ ایک لاکھ روپیہ کسی کے سامنے پیش کرے اور کہے کہ اس میں ایک روپیہ ڈال دو تو ایک لاکھ روپیہ تمہارا ہو جائے گا۔لیکن وہ ایک لاکھ روپیہ میں ایک روپیہ ڈال کر ایک لاکھ ایک روپیہ لینے کے لئے تیار نہ ہو۔اور سمجھتا ہو کہ ایک روپیہ کے پاس رکھنے میں ہی میری کامیابی ہے۔اس سے زیادہ نادان کون ہو گا۔جس کے لئے خدا تعالیٰ اپنی ساری قدرت پیش کرے اور کہے کہ اپنا ایک روپیہ اس ایک لاکھ میں ڈال دو تو یہ سارا روپیہ تمہارا ہو جائے گا۔لیکن وہ اس کے لئے تیار نہ ہو۔پس ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ خلاء کو پُر کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔اور اپنے ارادہ کو خدا تعالیٰ کی تقدیر کے ساتھ ملادے تاکہ وہ خدا کی ہو کر ساری دنیا کے لئے ہدایت کا موجب بنے۔اور خد اتعالیٰ کے فضلوں کی ایسی وارث ہو کہ اس کے دربار میں ہمیشہ اُس کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جائے۔“ (الفضل 23 / اگست 1945ء)