خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 308

$1945 308 خطبات محمود اگر باقی حصے بھی پورے ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ زنجیر مکمل ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے اس سال ہمارے لئے عظیم الشان بنیادیں قائم کر دی ہیں۔اگر جماعت صحیح طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے اور اپنی قربانیوں میں ترقی کرے، اپنے کام میں ترقی کرے، اپنے معاملات میں ترقی کرے تو اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کی ترقی کی ایک اور بنیاد اس سال ڈال دے گا۔بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ ترقی کی ایک اور بنیاد کا کیا مطلب ہے؟ اس بارہ میں میں ایک مثال دیتا ہوں۔بعض دفعہ لوگ مجھ سے یہ بھی پوچھا کرتے ہیں کہ آپ نے جو فلاں تقریر کی تھی اُس میں قومی کیریکٹر کے لئے فلاں فلاں چیز ضروری قرار دی تھی۔پھر دوسری تقریر میں آپ نے فلاں فلاں اخلاق قومی کیریکٹر کے لئے ضروری قرار دیئے۔ان دونوں میں اختلاف ہے۔میں انہیں جواب دیا کرتا ہوں کہ دونوں تقریروں میں کوئی اختلاف نہیں۔مختلف اخلاق مختلف اوقات اور مختلف حالات میں ضروری ہوتے ہیں۔بعض اخلاق ایسے ہیں جو لڑائی کے وقت ضروری ہوتے ہیں جیسے بہادری اور شجاعت۔اگر صنعت و حرفت کا سوال ہو تو کہا جائے گا کہ اس کے لئے محنت کی ضرورت ہے۔اگر تجارت کا سوال ہو تو کہا جائے گا کہ تجارت کو ترقی دینے کے لئے سچائی اور دیانت کی ضرورت ہے۔اسی طرح اس موقع پر جبکہ علموں کا مقابلہ ہو اور ایک قوم علم اور سائنس کے ذریعہ دوسری قوم پر حملہ کر رہی ہو تو مظلوم قوم سے کہا جائے گا کہ قومی ترقی کے لئے علم کی بڑی ضرورت ہے۔تو اس کے یہ معنے نہیں کہ یہ نصیحت دوسری سے مختلف ہے۔بلکہ بات یہ ہے کہ مختلف چیزیں مختلف مواقع پر الگ الگ حیثیت حاصل کر لیتی ہیں۔ایک نقطہ نگاہ سے ایک موقع پر ایک چیز اہمیت رکھتی ہے اور دوسرے موقع پر دوسری۔جیسا کہ ایک لالٹین چار طرف روشنی دینے والی ہو یعنی اُس کے چاروں طرف شیشے لگے ہوئے ہوں اب ہر جہت کو اس کے ایک شیشہ سے تعلق ہے۔ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ اس شیشہ کے بغیر روشنی نہیں آسکتی۔دوسری طرف والا سکتا ہے کہ اس شیشہ کے بغیر روشنی نہیں آسکتی۔تیسری طرف والا کہہ سکتا ہے کہ اس شیشہ کے بغیر روشنی نہیں آسکتی۔چوتھی طرف والا کہہ سکتا ہے کہ اس شیشہ کے بغیر روشنی