خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 306

$1945 306 خطبات محمود اچھا نہ نکلے اور ہندوستان دیر تک تکلیف میں رہے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پورا کرنے کے سامان کر دیئے ہیں۔یہ ساری باتیں چھ ماہ کے اندر اندر ظاہر ہوئی ہیں۔یہ کتنی عظیم الشان بات ہے کہ اسی سال اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ اعلان کرایا کہ ہندوستان اور انگلستان آپس میں صلح کرلیں اور اسی سال یہ خبر دی۔کہ مولانا ابو الکلام کے ذریعہ کوئی بڑا کام ہونے والا ہے۔اسی سال مسٹر مارین کے متعلق بھی خبر دی اسی سال وہ خبریں جو جرمن قوم کی شکست کے متعلق میں نے دی تھیں پوری ہوئیں۔یہ مجموعہ خبروں کا ایسا ہے جو نہایت اہم علم غیب پر مشتمل اور ان میں سے ہر ایک واقعہ ایسا ہے جو غیر معمولی ہے۔اگر کوئی شخص بتائے کہ فلاں کے گھر لڑکا پیدا ہو گا یا فلاں مر جائے گا اور ایسے پچاس ساٹھ واقعات پورے ہو جائیں تو ان کی اتنی اہمیت نہیں ہو گی جتنی ان اہم واقعات کی ہے۔اس سال ایسے اہم واقعات اور ایسی اہم باتیں پوری ہوئی ہیں جو سب دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ایک دفعہ نہیں بلکہ متواتر پوری ہوئی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس سال کو اہمیت اور خصوصیت کا مقام دینا چاہتا ہے۔میں نے اس کے متعلق تین سال پہلے بتایا تھا کہ الہی اشارہ اِس طرف معلوم ہوتا ہے کہ 1945ء بہت اہمیت رکھنے والا سال ہو گا۔اور وہ ہمارے لئے ایک کامیابی کی وادی کے مشابہ ہو گا۔اس میں اسلام اور احمدیت کی ترقی کی شاندار بنیاد پڑے گی۔اگر کوئی پوچھے کہ کونسی بنیاد پڑی ہے تو میں کہتا ہوں اول تو صلح ہو جانے کی وجہ سے ہمارے مبلغ باہر جانے شروع ہو گئے ہیں اور آٹھ نو مبلغ غیر ممالک میں جاچکے ہیں اور باقی جانے کو تیار ہیں۔دوسرے اس سے بڑھ کر ترقی اور فتح کی بنیاد اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس سلسلہ کے ہاتھوں یہ ثبوت دے کہ اس سلسلہ کا میرے ساتھ تعلق ہے اور میں اس سلسلہ کے ذریعہ غیب کی خبریں دنیا کو بتاتا ہوں۔یہ بہت بڑی بنیاد ہے فتح اور کامیابی کی۔اگر ایک خبر بھی ایسی ہو جو دوسرے لوگوں سے تعلق رکھتی ہو اور وہ پوری ہو جائے تو لوگوں کے نزدیک اس کی بہت بڑی اہمیت ہوتی ہے چہ جائیکہ متواتر غیب کی خبروں کا پورا ہونا۔جیسے جرمن قوم کی شکست، مولانا ابو الکلام آزاد کے متعلق رؤیا کہ ان کے ذریعہ کوئی اہم کام ہونے والا ہے، مسٹر ماریسن کے متعلق رویا، ہندوستان اور انگلستان کی صلح کے متعلق