خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 305

$1945 305 خطبات محمود بنے۔خواب کے بعد تین ماہ کے اندر ان حالات کا ظاہر ہونا کتنا عظیم الشان نشان ہے۔اور دشمنانِ اسلام اور احمدیت اور پیغامیوں پر کتنی زبر دست حجت ہے۔اور ابھی تو اس عظیم الشان پیشگوئی کے اور بہت سے پہلو ہیں جو اپنے وقت پر ظاہر ہوں گے۔موجودہ سیاسیات میں ان کا ظاہر کر نامناسب نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ خبر ایک اور خواب کے پورا ہونے کے لئے بھی راستہ کھولنے والی ہے۔وہ خواب میں بیان کر چکا ہوں اور شائع بھی ہو چکا ہے۔وہ خواب میں نے لاہور میں دیکھا تھا کہ مولانا ابو الکلام آزاد کے ہاتھ سے کوئی بہت اہم کام ہونے والا ہے۔شملہ کا نفرنس میں یہ سامان پیدا ہوئے لیکن بعض وجوہ سے رُک گئے۔اب لیبر پارٹی برسر اقتدار آئی اور وہ ہندوستان کی آزادی کے حق میں ہے۔اس کی خواہش ہے کہ ہندوستان کو جلد سے جلد آزاد کیا جائے۔ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ شاید پھر کانگرس اور مسلم لیگ کو اس بات کا موقع مل جائے کہ وہ آپس میں فیصلہ کر لیں اور کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں۔اور وہ خواب اس صورت میں پورا ہو جائے۔جہاں تک اہمیت کا تعلق ہے کسی کام میں ناکامی بھی انسان کے اہم واقعات میں سے ہوتی ہے۔بادشاہوں کی زندگی کے اہم واقعات بڑی فتوحات بھی کہلاتی ہیں اور بڑی بڑی شکستیں بھی۔محمد شاہ رنگیلا بہت سے بادشاہوں سے زیادہ مشہور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس نے ایک خطر ناک شکست کھائی جس سے ہندوستان کی طاقت ٹوٹ گئی۔تو جیسے بڑی بڑی فتوحات اہمیت رکھتی ہیں ایسے ہی بڑی بڑی شکستیں بھی اہمیت رکھتی ہیں اور ممکن ہے مولانا ابوالکلام آزاد کی ناکامی وہ اہم کام ہو جس کی نسبت خواب میں اشارہ تھا۔لیکن چونکہ کامیابی زیادہ اہمیت رکھنے والی شے ہے پس جب اس خواب کے نتیجہ میں یہ حالات پید اہو رہے ہیں تو یہ قیاس کرنا عقل کے خلاف نہیں کہ یہ خواب ابھی پوری طرح پورا نہیں ہوا اور آئندہ کامیابی کی صورت میں بھی پورا ہونے والا ہے۔کیونکہ قریب ترین مفہوم کسی چیز کی اہمیت کا اس کی کامیابی سے وابستہ ہوتا ہے۔اس کے بعد دوسرا نمبر ناکامی کا ہوتا ہے۔شملہ کا نفرنس کے بعد اب بظاہر معلوم ہو تا تھا کہ یہ ہندوستان کی آزادی کا مسئلہ دیر تک پڑا رہے گا اور شاید اس کا نتیجہ