خطبات محمود (جلد 26) — Page 263
خطبات محمود 263 $1945 ہم ہو شیار نہ ہوئے اور غفلت میں اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کرتے رہے۔کمیونسٹوں کی طرف سے بار بار مجھے اطلاعات مل رہی ہیں کہ آپ تو باہر کے لوگوں کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم قادیان میں ہی فتنہ پیدا کرنے کی تدابیر سوچ رہے ہیں۔اور ہم نے اپنے ایجنٹ بھی وہاں بھیج دیئے ہیں تا کہ اندر ہی اندر آہستہ آہستہ فتنہ پیدا کریں۔یہ بات تو الگ ہے کہ جماعت نے اُس فتنہ کی اہمیت کو ابھی تک نہیں سمجھا۔یہ بات بھی الگ ہے کہ ہماری جماعت نے اس آواز پر لبیک نہیں کہا جو میں نے بلند کی تھی۔لیکن کمیونسٹ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب میں اپنی جماعت کو امداد کے لئے بلاتا ہوں تو میر امطلب یہ نہیں ہوتا کہ اُن کی مدد کے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔میں صرف ان کو ثواب میں شریک کرنے کے لئے بلاتا ہوں۔ورنہ جب خدا نے مجھے اس کام کے لئے کھڑا کیا ہے تو اگر لاکھوں کی جماعت میں سے کوئی ایک شخص بھی میر اساتھ نہیں دیتا تب بھی کمیونسٹ میرے مقابلہ میں جیت نہیں سکتے بلکہ ان کا ہی منہ کالا ہو گا۔کیونکہ میری آواز میری نہیں بلکہ میری زبان سے خدا اپنی آواز دنیا میں پھیلا رہا ہے۔اور خدا کا مقابلہ کرنے کی ان کمیونسٹوں میں تو کیا ان کے سرداروں میں بھی طاقت نہیں ہے۔میں اگر اپنی جماعت کو کسی نیکی کی طرف توجہ دلاتا ہوں تو میرا ان کو توجہ دلانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی ملک میں سونا برس رہا ہو تو وہ شخص جس کے رشتہ دار غفلت میں سوئے پڑے ہوں وہ اُن کو آواز دینے لگ جائے کہ آؤ اور اس ٹوٹ میں تم بھی شامل ہو جاؤ۔وہ اگر بلاتا ہے تو اِس لئے نہیں کہ اُسے فائدہ پہنچے بلکہ اس لئے کہ ان غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو فائدہ پہنچ جائے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے حصہ نہ لینا انسان کی بہت بڑی محرومی ہوتی ہے۔تفسیروں میں ایک روایت آتی ہے گو وہ کمزور روایت ہے اور تمثیلی زبان اس میں اختیار کی گئی ہے مگر بہر حال اس روایت میں سبق موجود ہے۔گو اس وجہ سے کہ اس کی زبان تمثیلی ہے لوگوں نے غلطی سے اس واقعہ کو ظاہر پر محمول کر لیا ہے۔بعض دفعہ ایک خواب ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھایا جاتا ہے مگر لوگ اسے ظاہری واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔میرے نزدیک یہ بھی ایک خواب تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیان کیا مگر