خطبات محمود (جلد 26) — Page 237
$1945 237 خطبات محمود سو بندوقیں ہوں لیکن دوسرے شخص کے پاس کوئی ایک بندوق بھی نہ ہو اور اس حالت میں بھی وہ سمجھتا ہو کہ میں اپنے دشمن کا مقابلہ کر کے جیت جاؤں گا تو اگر فرض کرو اس کا دشمن اُسے کہے کہ توے بندوقیں تم مجھ سے لے لو اور دس میرے پاس رہنے دو۔تو ایسی حالت میں اگر وہ کہے کہ میں توے نہیں لوں گا جب دو گے سو ہی لوں گا تو کیا ایسے شخص کو کوئی بھی عقلمند کہہ سکتا ہے؟ یقینا ہر شخص اُسے نادان اور ناسمجھ ہی قرار دے گا۔اسی طرح خواہ کچھ کہہ لو اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ہندوستان کو جو بھی اختیارات ملیں، زیادہ ملیں تب بھی اور کم ملیں تب بھی وہ اختیارات بہر حال ہندوستان کے لئے مفید اور بابرکت ہوں گے اور وہ ہندوستان کو پہلے کی نسبت آزادی کے زیادہ قریب کر دیں گے۔پس میرے نزدیک ہندوستان کو اس پیشکش کو قبول کرنا انگریزوں سے صلح کرنا نہیں بلکہ اپنے آپ پر اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں پر احسان عظیم کرنا ہے۔دو سو سال سے ہندوستان غلامی کی زندگی بسر کرتا چلا آیا ہے اور یہ ایک ایسی خطر ناک بات ہے جو انسانی جسم کو کپکپا دیتی ہے۔بے شک بعض لوگ ایسے اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوتے ہیں کہ خواہ انہیں قید خانوں کے اندر رکھا جائے تب بھی وہ آزاد ہوتے ہیں غلامی اُن کے قریب بھی نہیں آتی۔مگر بیشتر حصہ بنی نوع انسان کا ایسا ہی ہو تا ہے جو ظاہری غلامی کے ساتھ دلی غلام بھی بن جاتا ہے۔ہم ہندوستان میں روزانہ اس قسم کے نظارے دیکھتے ہیں جو اس غلامی کا ثبوت ہوتے ہیں جو ہندوستانیوں کے قلوب میں پائی جاتی ہے۔ان واقعات کو دیکھنے کے بعد کون شخص ہندوستانیوں کی غلامی سے انکار کر سکتا ہے۔اسی ضلع کی بات ہے یہاں ایک دفعہ ایک انگریز ڈپٹی کمشنر آئے ان کو شکار کا شوق تھا۔یہ میرے ابتدائی ایام خلافت کا واقعہ ہے یا حضرت خلیفہ اول کی وفات کے قریب کی بات ہے۔بہر حال وہ ایک دن شکار کے لئے نکلے تو ایک جو ہر میں جو کسی گاؤں کے پاس تھا نمبر دار کی بطخیں تیر رہی تھیں۔کسی نے غلطی سے اُنہیں کہہ دیا کہ مگھ آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے فائر کر دیا۔فائر کے بعد جب وہ قریب گئے تو سمجھ گئے یہ تو بطخیں تھیں جن کو غلطی سے مگھ سمجھ کر فائز کر دیا گیا ہے۔انہوں نے نمبر دار کو بلایا اور پانچ روپے کا نوٹ اپنی جیب سے نکال کر اسے دیا کہ لو یہ روپے میں تمہیں دیتا ہوں۔مگر وہ اس ذہنیت کی وجہ سے کہ کہیں ڈپٹی کمشنر کو یہ