خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 236

$1945 236 خطبات حمود مجبور ہو گئی کہ وہ بھی ہندوستان کی آزادی کا سوال اٹھائے۔اگر کنزرویٹو پارٹی یہ سوال نہ اٹھاتی تو آئندہ الیکشن میں اس کو سخت مشکلات پیش آنے کا خطرہ تھا۔یہ تیسری غیر معمولی بات تھی جو پیدا ہوئی۔اور اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ کنزرویٹو پارٹی اپنے فیصلے کو جلد تر نافذ کرنے پر مجبور ہو گئی۔ورنہ نئے انتخابات میں اس کے لئے کامیابی کا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔کیونکہ انگلستان کی عام رائے اِس بات کے حق میں ہے کہ اب ہندوستان کو کسی نہ کسی طرح خوش کرنا چاہیے ورنہ بر طانوی حکومت کمزور ہو جائے گی۔اس تغیر کے نتیجہ میں وہ بات جس کے لئے لارڈ ویول چھ ہفتہ سے انگلستان میں مقیم تھے اور جس کے اکثر حصے کا گو تصفیہ ہو چکا تھا مگر اعلان میں بعض روکیں حائل تھیں اس کا دو تین دنوں میں ہی اعلان ہو گیا۔وہ انگلستان سے ہندوستان واپس آئے اور انہوں نے ہندوستان کے سامنے آزادی کی سکیم پیش کر دی۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس سکیم میں قریباً وہی فقرات درج ہیں جو میرے خطبہ میں تھے۔انہوں نے لکھا ہے کہ انگلستان ہندوستان کی طرف اپنا صلح کا ہاتھ بڑھاتا ہے کیونکہ آئندہ سخت خطرات پیش آنے والے ہیں۔ہندوستان کو اپنے جائز مقام اور جائز حق کے حاصل کرنے میں کو تاہی نہیں کرنی چاہیے۔یہ ہندوستان کا کام ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرے اور پرانے زخموں کو تازہ نہ کرے۔یہ ویسا ہی فقرہ ہے جیسے میں نے کہا تھا کہ نئے سمجھوتہ میں پرانی باتیں بھول جانی چاہئیں۔یہ وہ پیشکش ہے جو اس وقت ہند وستان کے سامنے ہے۔اور چونکہ یہ غیر معمولی آسمانی سامانوں کے ساتھ پیش ہوئی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدائی پیشکش ہے اور ہندوستان کی نہایت ہی بد قسمتی ہو گی کہ اگر اس نے اس پیش کش کو رد کر دیا۔میں تو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ ہندوستانی لیڈر باوجود اس کے کہ ان میں بعض بڑے بڑے سمجھدار اور بڑے بڑے عظمند ہیں کس طرح اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ انگریزوں کے ہاتھ میں سو فیصدی اختیارات کے ہوتے ہوئے اگر وہ آزادی کی امید رکھتے ہیں تو نوے فیصدی اختیارات اگر ان کے اپنے ہاتھ میں آجائیں تو کیوں وہ آزادی کی امید نہیں رکھ سکتے۔اگر انگریزوں کو دشمن سمجھ لیا جائے تو بھی یہ غور کرنا چاہیے کہ اگر کسی دشمن کے پاس