خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 191

$1945 191 خطبات حمود جیسے پرانے زمانہ میں مکانوں کے آگے پردہ کے لئے ایک دیوار بنائی ہوئی ہوتی تھی تاکہ باہر سے مکان کے اندر نظر نہ پڑ سکے۔خواب میں اسی طرح کی ایک دیوار ہے اور اس کے ساتھ راستہ ہے۔میں اس میں داخل ہو کر پہلے جنوب کی طرف اور پھر مڑ کر مغرب کی طرف گیا ہوں۔وہاں بھی دروازہ بند معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل وہ بند نہیں بلکہ کھلا ہے۔اور جس طرح سپرنگ والا دروازہ ہوتا ہے کہ کھولیں تو کھل جاتا ہے اور چھوڑ دیں تو آپ ہی آپ بند ہو جاتا ہے اس قسم کا وہ دروازہ ہے۔میں نے اُس کو سوئی سے دھکا دیا تو وہ کھل گیا۔اس میں سے گزر کر ہم چوک میں آگئے ہیں۔چوک میں ایک کمرہ ہے جو بہت وسیع ہے اور اس میں ہیں بچیں کے قریب چار پائیاں آسکتی ہیں اور کچھ چار پائیاں وہاں بچھی ہوئی بھی ہیں۔ان میں سے دو چار پائیاں شمالاً جنوباً بچھی ہوئی ہیں اور باقی شرقا غربا بچھی ہوئی ہیں۔جو چار پائیاں شمالاً جنوبا بچھی ہوئی ہیں اُن کی پائینتی کی طرف دوسری چار پائیاں ہیں جو شرقا غربا بچھی ہوئی ہیں۔ان دو میں سے ایک پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھ گئے ہیں اور ایک پر میں بیٹھ گیا ہوں اور باقی جماعت کے افراد دوسری چارپائیوں پر بیٹھ گئے ہیں جو شر قآغر با بچھی ہوئی ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے چارپائی پر بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر جہاں تک یاد پڑتا ہے کھڑے ہو کر بڑے جوش سے تقریر شروع کی۔تقریر میں میں نے ایک خاص بات بتائی ہے جس کا اظہار خطبہ میں کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔میں نے جماعت کے جن دوستوں کو بتانا مناسب سمجھا تھا اُن کو بلا کر اُسی دن وہ بات بتادی تھی۔بہر حال میں نے ایک چیز کی طرف توجہ دلائی ہے جو جماعت کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور بار بار میں اُس کی اہمیت بیان کرتاہوں اور کہتا ہوں کہ اگر تم یہ کام نہیں کرو گے تو احمدیت کو نقصان پہنچے گا اور آئندہ اس نقصان کا مٹانا بہت مشکل ہو جائے گا۔اس کے بعد میں نے کہا کہ دیکھو سب کے سب لوگ اس مقصد کو اپنے سامنے رکھ لو اور اس کو سامنے رکھ کر کام کرو۔اُس وقت میں جوش میں آکر یہ آیت پڑھتا ہوں کہ دیکھو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ [ کہ اس مقصد کو سامنے رکھ کر تم جدھر بھی منہ کرو گے وہیں اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہو گا۔اُس وقت میں نے اس آیت کی ایک ایسی تفسیر بیان کی جو جاگتے ہوئے کبھی میرے ذہن میں نہیں آئی۔میں نے اس آیت کو پڑھنے کے بعد اسے دہرانا