خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 161

$1945 161 خطبات محمود بادشاہ اور بڑے بڑے لوگوں کو اُس وقت تک چین نہیں آتا تھا جب تک کہ وہ اسے پڑھ نہ لیں۔تو ایک ایسے سیاسی لیڈر کو جس سے اطالوی حکومت ڈرتی تھی اور قید کر کے اٹلی لے گئی تھی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ احمدیت کو قبول کرے۔اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اپنے وطن میں واپس جا کر احمدیت کی اشاعت کی کوشش کروں گا۔اسی سلسلہ میں ایک اور نوجوان کا ذکر کر دینا بھی ضروری ہے جو مدینہ منورہ سے حال ہی میں یہاں اتفاق سے آئے ہیں۔اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ چاہے تو وہی نوجوان ان علاقوں میں احمدیت کی اشاعت کا موجب بن جائے۔وہ طالب علم ہیں ان کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں حج کے لئے مکہ میں آیا۔میرا ارادہ تھا کہ میں مزید تعلیم بھی حاصل کروں گا مگر وہاں مجھے خیال آیا کہ میں حنفی ہوں اس لئے اہلحدیث علماء سے نہ پڑھنا چاہیے اور میں نے ہندوستان آکر تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔وہ جدہ پہنچے اور وہاں کے بر طانوی قنصل سے کہا کہ ہندوستان پہنچنے کا کوئی انتظام کر دے۔چنانچہ اس نے اپنے پاس سے بمبئی تک کا ٹکٹ لے دیا۔بمبئی سے انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ علم پڑھنا ہے تو لا ہو ر جاؤ۔وہ لاہور آئے تو وہاں کسی نے انہیں پیر جماعت علی شاہ صاحب کے پاس علی پور سیداں جانے کا مشورہ دیا۔چنانچہ وہ وہاں گئے مگر پیر صاحب وہاں نہ تھے۔وہ حیران تھے کہ اب کیا کریں۔اور اس افسردگی کی حالت میں وہ ریلوے سٹیشن پر بیٹھے تھے کہ کوئی احمدی دوست وہاں آگئے۔ان سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ علم حاصل کرنا ہے تو میرے ساتھ قادیان چلو اور وہ ان کو قادیان لے آئے۔ان کو احمدیت کا کوئی علم نہ تھا۔جب علم ہوا تو انہوں نے کہا مجھے یاد آیا میرے والد کے نام ایک عربی رسالہ البشریٰ آیا کرتا تھا۔وہ اسے مطالعہ کیا کرتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ ہندوستان جا کر اس تحریک کے متعلق علم حاصل کروں۔مگر وہ فوت ہو گئے اور یہاں نہ آسکے۔اب شاید اللہ تعالیٰ اُن کی خواہش کو ہی پورا کرنے کے لئے مجھے یہاں لے آیا ہے۔وہ کل مجھ سے ملے اور بیعت بھی کرنا چاہتے تھے مگر میں نے کہا اس طرح بیعت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں بیعت تو اس وقت کرنی چاہیے جب اپنے نفس کو ہر قسم کی قربانیوں کے لئے تیار کر لیا جائے۔