خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 160

$1945 160 خطبات محمود ان ممالک میں احمدیت کی ترقی کے سامان اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہونے لگے ہیں۔اٹلی کی حکومت میں لیبیا کا ایک علاقہ تھا جسے تھوڑا عرصہ ہوا اتحادیوں نے فتح کر لیا ہے۔یہ علاقہ مصر کے ساتھ لگتا ہے۔اور وہاں بہت عرصہ تک اُسی طرح لڑائی ہوتی رہی ہے جیسا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رویا میں دکھایا تھا۔اس علاقہ کا ایک مشہور شہر بن غازی ہے جس کا ذکر بار بار خبروں میں آتا رہا ہے۔اس علاقہ کے ایک حصہ کا صدر مقام طبروق اور دوسرے حصہ کا بن غازی ہے۔اور یہ شہر لڑائی کا گویا ایک بیس (Base) تھا۔بن غازی اس لئے بھی زیادہ مشہور ہے کہ دینی تحریک یہاں طبروق کی نسبت زیادہ زبر دست ہے۔جیسے مثلاً ہندوستان میں دیوبند و غیرہ مقام ہیں۔بن غازی کے چیف امام جو عرب ممالک کی آزادی کی تحریک کے ایک لیڈر بھی تھے اور اس وجہ سے اٹلی کی حکومت ان کی مخالف تھی اور انہیں اطالوی حکام نے اٹلی کے کسی مقام پر قید کر رکھا تھا اطالوی حکومت نے ان کو جنگ کا تمام عرصہ قید رکھا اور واپس اپنے ملک میں نہ آنے دیا کیونکہ وہ ڈرتی تھی کہ وہ ملک کو آزادی کی تحریک کی طرف لائیں گے۔امریکنوں اور انگریزوں کے داخلہ پر وہ آزاد ہوئے ہیں۔چند روز ہوئے ان کی بیعت کا خط اٹلی سے آیا ہے۔یہ بیعت گو ہے تو جلسہ سالانہ سے پہلے کی مگر چونکہ خط ملا بعد میں ہے اس لئے انہی دو ماہ میں اس کا شمار ہو گا۔گویا اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان علاقوں میں تبلیغ کا ایک نیا رستہ کھول دیا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ ان دنوں بیمار ہیں۔کل میں ان سے ملنے گیا تو اُن کو اس بات کا کوئی علم نہ تھا۔میرے وہاں پہنچتے ہی اُنہوں نے کہا کہ جب سے نواب صاحب فوت ہوئے ہیں میں نے اُن کو خواب میں نہ دیکھا تھا۔آج رات پہلی دفعہ میں نے انہیں خواب میں دیکھا ہے۔اور انہوں نے جو خواب سنایا وہ بھی اسی واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔انہوں نے دیکھا کہ نواب صاحب مرحوم اپنے خاندان کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب میں بیمار تھا تو بیماری کی حالت میں بھی ان کو تبلیغ کرتا رہا اور جب میری زبان بند ہو گئی تو میں اشاروں سے اُن کو تبلیغ کرتا رہا۔یہ بات کہتے کہتے آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ بڑی خوشی کی خبر آئی ہے۔بڑی خوشی کی خبر آئی ہے۔مصر اور لیبیا و غیرہ عربی ممالک میں احمدیت خوب پھیل گئی ہے۔یہاں تک کہ اب الفضل کا ایک عربی ایڈیشن بھی شائع ہونے لگا ہے اور عربی ممالک کے