خطبات محمود (جلد 26) — Page 8
+1945 8 خطبات محمود از ہر یونیورسٹی۔اور اس میں قریباً دس ہزار طلباء تعلیم پاتے ہیں۔مگر ہم نے جو سکول تعلیم دین کے لئے جاری کر رکھا ہے اس کی یہ حالت ہے کہ سارے سال میں اس میں صرف آٹھ طالبعلم داخل ہوئے ہیں۔اور یہ وہ پہلی جماعت ہے جو آٹھ سال کے بعد آخری جماعت بنے گی۔اور اس سال تو پھر بھی آٹھ طالب علم داخل ہوئے ہیں پچھلے سال صرف تین ہوئے تھے۔اور آٹھ کے معنی ہیں چار۔کیونکہ کسی سکول میں جتنے لڑکے شروع میں داخل ہوں ان میں سے نصف کے قریب بالعموم گر جایا کرتے ہیں۔کچھ تو ہمت ہار کر خود ہی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔کچھ اور ہوتے ہیں جو پڑھائی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور مدرسہ والے ان کو خود نکال دیتے ہیں۔کچھ پڑھائی تو ختم کر لیتے ہیں مگر وہ دینی کام کرنے کے بجائے دُنیوی کاموں میں لگ جاتے ہیں۔اس لئے آٹھ کے معنے چار ہی سمجھنے چاہئیں۔تو اب جو آٹھ طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں ان میں سے چار ہمیں آٹھ سال کے بعد مل سکیں گے۔حالانکہ ہمیں تمام دنیا میں تبلیغ اور دینی تعلیم و تربیت کے لئے لاکھوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔اور اگر مبلغین کی تیاری کی رفتار یہی رہی تو اس کے یہ معنے ہیں کہ دس ہزار سال میں ہمیں کام کرنے والے آدمی پوری تعداد میں مل سکیں گے۔اور وہ بھی اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ یہ قانون بنادے کہ ان میں سے کوئی مرے گا نہیں اور بوڑھا بھی نہیں ہو گا۔اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا قانون ہو تب دس ہزار سال کے بعد ہمیں پورے مبلغ مل سکتے ہیں۔اور دنیا کی کوئی قوم دس ہزار سال تک زندہ نہیں رہ سکتی۔کسی قوم کی زندگی تین سو سال سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔اس عرصہ میں وہ یا تو غالب آکر دوسری طرف متوجہ ہو جاتی ہے اور یا پھر مٹ جاتی ہے۔اور اس کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔اس کے بعد کہیں کہیں صوفیاء وغیرہ رہ جاتے ہیں جو اپنی اپنی جگہ اور اپنے اپنے حلقہ میں اپنے سلسلہ کو جاری رکھتے ہیں ورنہ اس مذہب کی طرف منسوب ہونے والے تو باقی رہتے ہیں لیکن مذہب باقی نہیں رہتا۔آج ہندوستان میں کروڑوں ہند و موجود ہیں مگر ہندو مذہب باقی نہیں۔ہندو کہلانے والے جو قانون اپنے لئے چاہتے ہیں بنا لیتے ہیں۔عیسائی ہیں ان کو آج دنیا میں بڑی طاقت حاصل ہے مگر عیسائیت باقی نہیں۔بلکہ عیسائیت تو رسول کریم صلی اینیم سے پہلے ہی مٹ گئی تھی۔یہودی تو دنیا میں موجود ہیں لیکن اگر آج حضرت موسیٰ علیہ السلام