خطبات محمود (جلد 26) — Page 107
$1945 107 خطبات محمود نے حیران ہو کر پوچھا کہ تمہیں پتہ نہیں تھا کہ وہ کون ہے تو پھر تم نے ضمانت کیوں دی ؟ ابوذر نے کہا اس نے جو اتنے آدمیوں کا منہ دیکھ کر ان میں سے اپنی ضمانت کے لئے مجھے بچنا تو کیا میں اُس پر بے اعتباری کرتا؟ اُس نے مجھے پر اعتبار کیا میں نے بھی اُس پر اعتبار کیا۔جب اس نے میرے متعلق یہ سمجھا کہ یہ وہ شخص ہے جو ایک اجنبی کی خاطر جان دے دے گا تو میں کس طرح اس کی بات کو رد کرتا۔میں نے بھی ضمانت دے دی۔جب مقررہ وقت آگیا اور لوگ سمجھنے لگے کہ ضامن کو سزا دینے کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سوار گھوڑا دوڑاتا ہوا اتنا تیز آرہا ہے کہ گرد میں سوار کا پتہ نہ لگتا۔وہ گرد قریب ہوتی گئی اور مجمع کے قریب آکر سوار گھوڑے پر سے اترا۔وہ اتنی تیزی سے گھوڑا دوڑاتا ہوا آرہا تھا کہ جو نہی اُس نے گھوڑے پر سے چھلانگ لگائی گھوڑازمین پر گرا اور گرتے ہی دم توڑ دیا۔یہ وہی شخص تھا جس کے لئے یہ دن قصاص کے لئے مقرر تھا۔لوگوں کو یہ اطمینان ہو گیا کہ ابوذر کی جان بچ گئی۔کسی شخص نے اُس شخص سے پوچھا میاں! تم آکس طرح گئے تمہارے متعلق تو معلوم ہوا ہے کہ یہاں کوئی تمہارا واقف ہی نہیں۔ابو ذر جس نے تمہاری ضمانت دی تھی اس کو بھی پتہ نہیں تھا تم کون ہو۔دوستی اور تعلقات کا آخر لحاظ اور شرم ہوتی ہے کہ کسی دن پکڑ لیں گے لیکن تمہیں تو کوئی جانتا ہی نہیں تھا تم کس طرح آگئے ؟ اس نے آگے سے جواب دیا کہ ایک شخص جو مجھے جانتا ہی نہیں تھا اُس نے جب میری خاطر اپنی جان کی پروا نہ کی اور میری ضمانت دے دی تو کیا میں اتنا ہی بے حیا تھا کہ نہ آتا اور اس کی جان کی پروا نہ کرتا۔مجھے آنے میں کچھ دیر ہو گئی اس لئے میں اتنی تیزی سے گھوڑا دوڑا تا آرہا تھا کہ مجھے اس کی پروا نہیں تھی کہ گھوڑا بچتا ہے یا مرتا ہے۔جب دونوں طرف کی شرافت کا یہ نظارہ مدعیوں نے دیکھا تو انہوں نے بھی آگے بڑھ کر کہہ دیا کہ ہم اپنا قصاص معاف کرتے ہیں، ہم بدلہ لینا نہیں چاہتے اس کو معاف کیا جائے۔یہ وہ شرافت تھی، یہ وہ ایمان تھا، یہ وہ سچائی اور یہ وہ دیانت تھی جس نے مسلمانوں کے نام کو بلند کیا اور ہمیشہ کے لئے دنیا میں ان کی عزت قائم کر دی۔جو لوگ یہ نمونہ دکھاتے ہیں وہ قوم کو چار چاند لگا دیتے ہیں اور جو لوگ یہ نمونہ نہیں دکھاتے وہ قوم کا گلا کاٹنے والے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ لوگوں کو یہ شبہ ہو گا کہ