خطبات محمود (جلد 26) — Page 3
$1945 3 خطبات حمود دل میں نہیں آنے دیتے تازندگی خراب نہ ہو جائے۔یا پھر یہ بات ہے کہ دنیا کی دلچسپیاں اور دنیا کی امنگیں اتنی زبر دست ہوتی ہیں کہ وہ موت کے خیال کو پاس پھٹکنے نہیں دیتیں۔ایسی ہی اور بہت سی چیزیں ہیں جو موت ہی کی طرح قطعی اور یقینی ہوتی ہیں مگر انسان ان کے خیال کو پاس نہیں آنے دیتا۔گرنے والے اور زوال پذیر ہونے والے خاندان جن کی جائدادیں بکتی اور رہن ہوتی جاتی ہیں۔جن کے نوجوان تعیش کی زندگیاں بسر کرنے لگتے ہیں اور علم و تقویٰ کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور کام کاج سے جی چرانے لگتے ہیں ہر دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہ گر رہے ہیں۔سوائے ان کے جو ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو گر رہے ہوتے ہیں مگر اپنی حالت دیکھ نہیں سکتے۔وہ گرتے چلے جاتے ہیں مگر اپنی حالت پر غور نہیں کرتے۔ہماری جماعت کے سپر د جو کام ہے اس کے متعلق بھی ایک ایسی چیز ہے جو ایسی واضح ہے کہ اس کے بارہ میں کوئی شبہ نہیں مگر ابھی تک جماعت میں اس کا احساس پیدا نہیں ہوا۔اور وہ ہے تبلیغی جد وجہد۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے نبی اشاعت قرار دیا ہے۔اسلام کی اشاعت اور اظہار علی الادیان کے آپ ہی کے زمانہ میں ہونے کے متعلق پیشگوئیاں ہیں۔پھر آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے سلطان القلم رکھا ہے۔گویا کام کی دو ہی چیزیں ہیں۔یعنی دعوۃ اور قلم۔انہی دو سے اسلام کو دوسرے مذاہب پر غلبہ حاصل ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے بیان اور تحریر دونوں چیزیں آپ کو دی ہیں اور ان دونوں سے ہی اسلام دوسرے مذاہب پر غالب ہو گا۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انہی دو سے آپ کی جماعت نے کام لینا ہے اور انہی ذرائع سے آپ کی جماعت کو ترقی حاصل ہو گی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ترقی کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ ”ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بد ظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے۔اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا۔اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“2