خطبات محمود (جلد 25) — Page 85
خطبات محمود 85 $1944 میں نے اپنے خطبہ میں اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا اعلان کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ رویا میں میں نے دیکھا کہ احمدیوں کا ایک بہت بڑا ہجوم ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی عظیم الشان نشان ظاہر ہوا ہے جس پر وہ خدا تعالیٰ کی حمد اور اس کی تسبیح و تحمید کر رہے ہیں اور بڑے جوش سے ان کے منہ سے تسبیح کی آوازیں نکل رہی ہیں۔وہ لکھتے ہیں رویا میں میں نے دیکھا کہ اور لوگوں پر بھی اس کا اثر ہے لیکن مفتی محمد صادق صاحب پر تو وجد کی حالت طاری ہے۔اب دیکھو! پچھلے خطبہ میں تمام احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کے اس نشان کا اثر تھا مگر مفتی صاحب پر تو اس کا ایسا اثر ہوا کہ وہ خطبہ جمعہ میں ہی بول پڑے۔وہ لکھتے ہیں میں حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔اس کے بعد مجھے ایک کمرہ نظر آیا جس میں شیشے کی تین چوکھٹیں لگی ہوئی ہیں اور ان پر نہایت اعلیٰ پالش کیا ہوا ہے تاکہ اُن پر تصویر آسکے۔اس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ اُن پر دو تصویریں نمودار ہو گئی ہیں۔ایک تصویر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہے اور ایک آپ کی ہے اور یہ دونوں تصویریں اکٹھی کمرہ کے اندر چکر کھارہی ہیں اور ان کو میں دیکھ کر لوگ خوش ہو رہے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہے ہیں۔انہوں نے تیسری تصویر کا ہے ذکر نہیں کیا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر کو انہوں نے نہیں دیکھا۔یا شاید دیکھا تو ہو مگر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل انہوں نے دیکھی ہوئی نہیں تھی اور آپ کی تصویر بھی دنیا میں کوئی موجود نہیں اس لیے وہ نہ سمجھ سکے ہوں کہ یہ کس کی ہے تصویر ہے۔لیکن رویا میں انہوں نے شیشے تین ہی دیکھتے ہیں اور میری رؤیا میں بھی تین وجو دوں کے بولنے کا ذکر آتا ہے۔پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میری زبان سے بولے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور میری زبان سے بولے اور پھر میں خود بولا۔پھر وہ لکھتے ہیں خواب میں عربی زبان میں کچھ باتیں ہو رہی ہیں جنہیں میں سمجھ نہیں سکا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نُزُولُ السَّمَاء نُزُولُ السَّمَاء کہا جا رہا ہے۔اس میں در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اُس الہام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو آنے والے موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشتہار میں پایا جاتا ہے کہ كَانَ الله نَزَلَ مِنَ السَّمَاء۔چونکہ وہ عربی سے ناواقف ہیں اس لیے کہتے ہیں مجھے اور تو