خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 84

$1944 84 === خطبات محج محمود اس کا نام لیا جائے گا۔انبیاء و رسل کے ساتھ نام لیے جانے کے وہی معنے ہیں جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی پیشگوئی میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ مثیل مسیح ہو گا۔یعنی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو نبی اور رسول ہیں ان کے ساتھ میرا بھی نام لیا جائے گا۔اسی طرح ایک دوست نے لکھا کہ رویا میں میں نے دیکھا کہ مینار پر ہو کر آپ آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَةُ کا اعلان کر رہے ہیں۔آلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَدُ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی الہاموں میں سے ہے اور مینار پر اس الہام کے اعلان کرنے کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تبلیغ احمدیت کو میرے ذریعہ سے اور بھی مضبوط کر دے گا۔اسی طرح ایک دوست نے دیکھا کہ ایک درخت پر کھڑے ہو کر میں کوئی اعلان ہے کر رہا ہوں۔یہ میری رؤیا سے پہلے کی بات ہے اور درخت سے مراد گو اُس وقت میرا ذہن اس طرف نہیں گیا الہام الہی ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں الہام کو شجرۂ طیبہ قرار دیا گیا ہے ہے۔پس اس کے معنے یہ تھے کہ خدا تعالیٰ کے الہام اور رؤیا کے ماتحت میں لوگوں کے سامنے کوئی اعلان کرنے والا ہوں لیکن اس بارہ میں سب سے زیادہ عجیب رویا منصف خان صاحب اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کا ہے۔اس رؤیا کو پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ کس طرح اس میں میرے پچھلے خطبہ اور خواب کا سارا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ 30 اور 31 جنوری کی درمیانی شب کو میں نے یہ رویا دیکھا ہے۔خطبہ میں نے 28 جنوری کو پڑھا تھا اور یقیناً یہ خطبہ خواب دیکھنے کے وقت تک ان کو نہیں ملا۔"الفضل" میں اس بارہ میں پہلی خبر 30 جنوری کے پرچہ میں شائع ہوئی ہے اور الفضل کا یہ پرچہ ان کو 31 جنوری کو مل سکتا تھا۔لیکن انہوں نے 30 اور 31 جنوری کی درمیانی رات کو یہ خواب دیکھا۔اور پھر اُن کے خط میں بھی اس امر کا کوئی ذکر نہیں کہ اخبار میں انہوں نے یہ خبر پڑھ لی ہے۔جس سے معلوم ہے ہوتا ہے کہ یہ رؤیا ان کو ایسے حالات میں ہوئی ہے جبکہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ میں