خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 777 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 777

خطبات محمود 777 $1944 اور جوش میں ہر گز نہیں آنا چاہیے۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور وہی اِس کا ذمہ دار ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے حاکم نہیں بنایا کہ ہم ایسی شرارتوں کا علاج کریں۔جن کو حاکم بنایا ہے وہ ذمہ دار ہیں۔اور اگر وہ رعایت کریں گے تو جس خدا نے انہیں حاکم بنایا ہے وہ خدا ان سے پوچھے گا۔پھر یہ بھی سوچو کہ کونسا نبی ہے جس کو گالیاں نہیں دی گئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی گئیں۔ایک یہودی شاعر تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق شعروں میں کہا کرتا تھا نَعُوذُ باللہ آپ کے خاندان کی فلاں عورت سے میرے ایسے ایسے تعلقات ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایسے گند سُنتے تھے اور اُن کو صبر سے برداشت کرتے تھے۔پس اگر ایسی ہی گالیاں ہمیں دی جائیں تو ہمارے جوش میں آنے کی کیا معقول وجہ ہو سکتی ہے۔آخر ہماری عزت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت سے زیادہ تو نہیں۔پس اگر اس قسم کی گالیاں سُن کر کسی کو غصہ آتا ہے تو میں یہ نہیں سمجھوں گا کہ وہ شخص بڑا غیرت مند ہے بلکہ میں اس کے معنے یہ سمجھوں گا کہ وہ کمزور ہے اور اُس کے اندر قوت برداشت نہیں۔پس صبر سے کام لو اور اس بات کو خوب یاد رکھو کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے سامنے ہی اپنی فریاد پہنچانی ہے۔دنیا کے قانون میں تو ایک کانسٹیبل چاہے اُس کا ایک بڑے سے بڑے عالم سے مقابلہ ہو، بڑے سے بڑے تاجر کے ساتھ اُس کا مقابلہ ہو، بڑے سے بڑے صناع کے ساتھ اُس کا مقابلہ ہو، بڑے سے بڑے موجد کے ساتھ اُس کا مقابلہ ہو اور چاہے کانسٹیبل نے ظلم ہی کیا ہو گور نمنٹ یہی کہے گی کہ ایک سرکاری آدمی کو اس کی ذمہ داری سے روکا گیا ہے۔لیکن خدا کی گرفت سے کانسٹیبل ہی نہیں بلکہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی نہیں بچ سکتا۔پس تم خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی التجا پیش کرو۔چنانچہ میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ یکم جنوری 1945ء سے چالیس دن تک ہماری جماعت کے دوست متواتر اور باقاعدہ اللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ کی دعا عشاء کی آخری رکعت میں پڑھا کریں۔اِس دعا کے معنے یہ ہیں کہ اے خدا! ہم پر دشمن حملہ آور ہوا ہے ہمارے پاس تو مقابلہ کی طاقت نہیں اس لیے ہم دشمن کے مقابلہ میں تجھے پیش کرتے ہیں۔تو ہی اُن کے حملہ کا جواب دے۔وَنَعُوذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ ہمیں تباہ کرنے کے لیے دشمن جو شرارت کرتا ہے