خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 756 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 756

$1944 756 محمود یہ نہیں دیکھتے کہ کیا حکم دیا گیا ہے یا حکم نہیں دیا گیا بلکہ وہ بات کی غرض و غایت کو سمجھتے اور اسے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اپنے اس اقرار کو دیکھتے ہیں جو انہوں نے بیعت کے وقت کیا تھا۔مگر جن کے دلوں میں محبت نہیں ان پر میرے الفاظ کیا اثر کر سکتے ہیں اُن پر تو قرآن کریم بھی اثر نہیں کر سکتا۔قرآن کریم آہستہ آہستہ نازل ہوا تا دلوں پر اثر کرے۔ابو جہل نے قرآن سنا مگر اُس پر کوئی اثر نہ ہوا، عقبہ وشیبہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔مگر ہزاروں لوگ ہیں ایسے ہیں کہ ایک ایک آیت کو ہی سُن کر ایمان لے آئے۔پس ایمان تو تمہارے دلوں سے ہی پید اہو گا میرے الفاظ سے نہیں۔میں تو صرف معلم ہوں اور میں نے بات پہنچانی ہے۔اس پر عمل کرنے کا جوش تمہارے اندر سے پیدا ہو گا۔اور یہ جوش محبت اور عشق کے نتیجہ میں ہی ا پیدا ہو سکتا ہے۔اگر محبت ہی نہیں تو ہزار حکم بھی بیکار ہیں۔ارشادات کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے اور توجہ دلانا اور زور دینا بھی بے سود ہے۔لیکن اگر حقیقی محبت اور عشق پیدا ہو جائے تو میں ایک لفظ بھی نہ بولوں پھر بھی تم پروانوں کی طرح دوڑے آؤ گے۔پس اصل سوال تو دل کی ہے محبت کا ہے احکام کا نہیں۔اگر محبت نہیں تو سارا قرآن سنانے سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا۔لیکن اگر محبت پیدا ہو جائے تو دنیا خواہ تمہیں روکنے کے لیے پورا زور لگائے پھر بھی تمہارا قدم اُسی ہے طرف اٹھے گا جس طرح کہ روکتے روکتے بھی پروانے شمع پر ہی آگر تے اور اپنی جانیں خدا الفضل 12/ دسمبر 1944ء) کر دیتے ہیں"۔1 بخاری کتاب الرقاق باب التواضع 2 :آل عمران: 98 3 : سیرت المہدی روایت نمبر 257 4 : سیرت ابن ہشام جز و 3 صفحہ 331 332 مطبوعہ قاہرہ 1965ء(مفہوم) 5 : تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 1546۔بیروت لبنان 6 : اسدالغابة جلد 3 صفحہ 157۔مطبوعہ ریاض 1286ھ ابوداؤد ابواب الجمعة بَاب الْإِمَامِ يُكَلِّمُ الرَّجُلَ فِي خُطْبَتِهِ