خطبات محمود (جلد 25) — Page 746
خطبات محمود 746 $1944 عملی سیاسیات سے الگ رہنا چاہیے اور بھی بادشاہت کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرنی ہے چاہیے۔ورنہ سیاسی پارٹیوں سے براہ راست خلافت کا مقابلہ شروع ہو جائے گا اور خلافت ایک سیاسی پارٹی بن کر رہ جائے گی اور خلفاء کی حیثیت باپ والی نہ رہے گی۔اس میں شک نہیں کہ ہے اسلام کی ابتداء میں خلافت اور حکومت جمع ہوئی ہیں مگر وہ مجبوری تھی کیونکہ شریعت کا ابھی نفاذ نہ ہوا تھا اور چونکہ شریعت کا نفاذ ضروری تھا اس لیے خلافت اور حکومت کو اکٹھا کر دیا گیا۔اور ہمارے عقیدہ کی رو سے یہ جائز ہے کہ دونوں اکٹھی ہوں اور یہ بھی جائز ہے کہ الگ الگ ہوں۔ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں مگر میری رائے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی ہمیں حکومت دے اس وقت بھی خلفاء کو اسے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔بلکہ الگ رہ کر حکومتوں کی نگرانی کرنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ اسلامی احکام کی پیروی کریں اور مینی ان سے مشورہ لے کر چلیں اور حکومت کا کام سیاسی لوگوں کے سپر دہی رہنے دیں۔پس اگر حکم ہے کا سوال ہے تو میر انقطہ نگاہ تو یہ ہے کہ اگر میری چلے تو میں کہوں گا کہ حکومت ہاتھ میں آنے می پر بھی خلفاء اسے اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔انہیں اخلاق اور احکام قرآنیہ کے نفاذ کی نگرانی کرنی ہے چاہیے۔پس اگر کوئی ہماری نصیحت کو نہیں مانتا تو اس طرح کا حکم تو جیسے حکومت کے احکام ہوتے ہیں نہ ہمارے اختیار میں ہے اور نہ ہم دے سکتے ہیں اور نہ اس کا نفاذ کر اسکتے ہیں۔اور میرے دل کا میلان یہ ہے کہ ایسے اختیارات کو لینا میں پسند ہی نہیں کرتا۔اس لیے ہم تو جب می بھی کوئی بات کہیں گے محبت اور پیار سے ہی کہیں گے۔اور اگر اس سے کوئی یہ استدلال کرتا ہے کہ حکم نہیں تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے احکام دینا نہ تو ہمارے اختیار میں ہے اور نہ ہی ہم ایسے احکام کے نفاذ کی طاقت رکھتے ہیں۔اور ایسے لوگ جو حکم تلاش کرتے ہیں وہ اس جماعت میں داخلہ سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔فائدہ وہی حاصل کر سکتا ہے جو محبت کے تعلق کو قائم رکھے اور یہ نہ دیکھے کہ کوئی بات حُکماً کہی گئی ہے یا نہیں۔بلکہ صرف یہ دیکھے کہ جس سے پیار ہے اُس کی بات کو وزن دینا ضروری ہے اور اس کے نقش قدم پر چلنا لازمی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا گیا کہ آپ کی مجلس میں بعض میں