خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 665

$1944 665 خطبات محمود پیش کیے ہیں اور بتایا ہے کہ ہم لوگوں کو دنیا کمانے سے منع نہیں کر سکتے۔وہ بیشک تجارت کریں، وہ بے شک صنعت و حرفت اختیار کریں مگر ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بعض قواعد کی پابندی اپنے اوپر لازم کر لیں تاکہ دین کو بھی کوئی نقصان نہ ہو اور دنیا کی مشکلات میں بھی ہے کوئی اضافہ نہ ہو۔چنانچہ اُن قواعد کو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔یہ قواعد ایسے ہیں جن پر عمل کرنے سے باوجو د تجارت اور صنعت کا کام کرنے کے وہ خرابیاں پیدا نہیں ہو تیں جو تجار توں اور صنعت و حرفت کے کاموں سے دنیا میں عام طور پر پید اہوتی ہیں۔اب میں تفصیل سے اوپر کی بارہ باتوں کو بیان کرتا ہوں۔پہلی چیز جس کا میں نے ذکر کیا تھا وہ یہ تھی کہ اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ تجارت اور صنعت ذکر الہی میں روک نہیں ہونی چاہیے۔میں نے اس کی تشریح بھی کر دی تھی کہ مثلاً جہاد کا وقت آجاتا ہے یا موجودہ زمانہ کے لحاظ سے تبلیغ پر زور دینے کا وقت آ جاتا ہے اور ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو باہر بھیجیں تاکہ وہ دوسروں کو احمدیت میں داخل کر سکیں۔ایسے موقع پر اگر کوئی کارخانہ دار یا کوئی تاجر یہ کہتا ہے کہ میں تبلیغ کے لیے نہیں جاسکتا کیونکہ اگر میں جاؤں تو میری تجارت یا میرے کارخانے کو نقصان پہنچے گا تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ ی اُس کا کارخانہ اور اُس کی تجارت اسلام کے منشاء کے مطابق نہیں بلکہ یقیناً اسلام کے خلاف ہے اور وہ اپنے لیے جائز کمائی نہیں کر رہا بلکہ ناجائز اور حرام مال کما رہا ہے۔اسلام ایسی ہی تجارت اور ایسے ہی کار خانہ اور ایسی ہی صنعت کی اجازت دیتا ہے جو خدا تعالیٰ کے ذکر اور اُس کے دین کے کام میں روک بن کر کھڑی نہ ہو جائے۔اسلام کے نزدیک انسان مال بے شک کما سکتا ہے مگر اُسی صورت میں جب وہ خدا کو اور خدا کے دین کو دنیا پر مقدم رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کس طرح ایک چھوٹے سے فقرہ میں اسلام کے اس قیمتی اصل کو بیان ہے فرما دیا ہے کہ "میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا"۔15 دنیا کمانے کے متعلق بھی یہ ایک نہایت ہی قیمتی اصل ہے جس کو اپنے سامنے رکھ کر ہر شخص اپنے متعلق یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ جائز رنگ میں دنیا کما رہا ہے یا ناجائز رنگ میں۔اگر کوئی شخص دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے ہے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی دنیا، دنیا نہیں بلکہ اس تقدم کی وجہ سے اس کی دنیا بھی ہے