خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 530

خطبات محمود 530 $1944 اپنی جائیداد، اپنے عزیز رشتہ دار اِن سب چیزوں کو خدا کے حکم کے مطابق اور دین کی ضرورت کے ماتحت قربان نہیں کرتا وہ کبھی بھی نہ سلسلہ کے لیے مفید ہو سکتا ہے اور نہ مومنوں کی جماعت میں شامل ہونے کے قابل ہے۔ہماری جماعت کے ہر ایک فرد کو اس کی اہمیت سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تو کسی بات کو سمجھ لیتے ہیں مگر دوسروں کو سمجھانے میں کو تاہی کرتے ہیں۔حالانکہ انبیاء کی جماعت کو تو دوسروں کو سمجھانے میں لگے رہنا چاہیے۔انبیاء سے ڈوری کے زمانہ میں اگر پچاس فیصدی لوگوں میں ایمان پا یا جائے اور وہ دین کے مطابق زندگی بسر کرنے والے ہوں تو غنیمت سمجھا جاتا ہے۔لیکن نبیوں کے زمانہ میں تو ننانوے فیصدی لوگوں میں ایمان کا پایا جانا اور دین کے مطابق زندگی بسر کرنا ضروری ہوتا ہے ہے کیونکہ اگر اُس زمانہ میں ہی اُن کے اندر خرابی پیدا ہو جائے تو سلسلہ کی حفاظت نہیں ہو سکتی۔انبیاء کے زمانہ کے بعد دین کی حفاظت کا وقت نہیں ہوتا بلکہ عمل کا وقت ہوتا ہے لیکن نبیوں کی بعثت کے زمانہ میں تو دین کی حفاظت کا سوال ہوتا ہے۔پس انبیاء کے زمانہ میں نہ صرف انفرادی ایمان پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ قومی من ایمان پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، دین کی ضرورتوں کے مطابق قومی قربانیاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور جب تک قومی رنگ میں ایمان پیدا نہ ہو اور جب تک قومی رنگ میں قربانیاں نہ کی جائیں اُس وقت تک نبی کی بعثت کی غرض پوری نہیں ہوتی۔اور جب تک نبی کی بعثت کی غرض پوری نہ ہو اس نبی کی قوم بری الذمہ ہے نہیں ہوتی۔بلکہ مجرم ٹھہرتی ہے کہ جو کام اُس کے ذمہ لگایا گیا تھا اُس کو اُس قوم می ہے۔نے پورا نہیں کیا۔پس ہمیں ہر رمضان سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے اور یاد رکھنا۔چاہیے کہ جس طرح سال میں رمضان کا ایک مہینہ ہر مسلمان پر روزے رکھنا فرض ہے ہمارے لیے سارا سال ہی رمضان ہے۔ہمارے لیے صرف ایک مہینہ ہی روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ بارہ مہینے ہی روزوں کے مہینے ہیں۔جب تک اسلام دوبارہ دنیا میں