خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 500

خطبات محمود 500 $1944 بھی ناکافی ہے چہ جائیکہ جماعت کی آئندہ ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے کافی سمجھ لیا جائے۔اگر پورے زور سے تبلیغ کی جائے گی جیسا کہ چاہیے تو وہ مسجد بہت جلد بالکل ناکافی ثابت ہو گی۔پس پنجاب کے اس مرکزی شہر کے لیے بھی ضروری ہے کہ یہاں پر ایک وسیع مسجد ہو جس کے ساتھ لائبریری ہو، مہمان خانہ ہو ، مبلغ کا مکان بھی ہو اور مختلف زبانوں میں لٹریچر بھی موجود ہو۔یہ سات مقامات ایسے ہیں کہ میرے نزدیک اس وقت ہندوستان میں ان جگہوں پر ہمارے مراکز ہونے نہایت ضروری اور لازمی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ لَوْ كَمَفْحَصِ الْقَطَاةِ لِمپنی کی حدیث میں اس طرف خاص طور پر اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر ترقی چاہتے ہو تو ؟ جس طرح جانور گڑھا کھودتا ہے اور اُس میں اپنے انڈے کو سیتا ہے اور پھر اس سے بچے نکلتے ہیں ہیں۔اسی طرح تم بھی مسجدوں کو زیادہ کرو۔کیونکہ ترقی اسی طریق سے ہو سکتی ہے۔اور اس می وجہ سے فرمایا کہ یہ مت سمجھو کہ اگر تم نے پوری مسجد نہ بنائی تو تم کو کیا ملتا ہے۔اگر تم نے اس می کا تھوڑا حصہ بھی بنایا ہو گا تو خدا کے نزدیک اس کی جنت میں گھر لینے کے مستحق ہوگے۔خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے پہلے سے یہ الفاظ کہلوا دیے کہ چونکہ تم مسجد بنانے میں حصہ لے کر اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کے لیے ایک مرکز قائم کرتے ہیں ہو اور چونکہ اس طریق سے گم گشتہ انسانوں کو واپس لاتے ہو۔اس لیے ساری مسجد کا سوال ہے ہیں بلکہ اگر تم نے اتنا بھی حصہ لیا ہے جتنا کہ جانور کے انڈار کھنے کی جگہ ہوتی ہے تو چونکہ تم خدا کے گم گشتہ بندے کو خدا کے گھر میں واپس لانے کا موجب ہوئے ہو اس لیے خدا تعالیٰ تمہارا گھر جنت میں بنائے گا۔اور اس طرح رغبت دلائی کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کے بدلہ میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے وسیع انعام ملے گا۔تم نے اپنی حیثیت کے مطابق اور اپنی طاقت کے مطابق کام کیا اور خدا اس کے بدلہ میں وہ انعام دے گا جو اُس کی حیثیت کے مطابق ہوگا اور اس طرح سے اس بات پر آمادہ کیا کہ کہیں اپنی کوششوں کو حقیر سمجھ کر پیچھے نہ ہٹ جانا۔اگر تھوڑی سی نیکی بھی تم کرو گے تو خدا اس کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ اس کو بڑھائے گا۔یہاں تک کہ قیامت کے دن اس تھوڑی نیکی کے بدلہ میں بھی تمہیں وسیع انعام ملے گا۔پس میں