خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 479

خطبات محمود 479 $1944 انہی معنوں میں آیا ہے کہ إِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ 3 کہ نماز نہ ڈرنے والوں کی طبیعت پر بوجھل ہے۔تو کبائر کے معنے یہ ہیں کہ جن کا چھوڑ نا طبائع پر بو جھل محسوس ہو۔اسی طرح نیکیوں میں سے بھی جو نیکی زمانہ یا طبائع کے لحاظ سے زیادہ گراں ہو گی اس زمانہ میں ہے اُسی کو بڑی نیکی کہا جائے گا۔اگر کسی زمانہ میں مثلاً لوگوں کو روپیہ ضائع کرنے کی عام عادت ہو لیکن جان دینے سے ڈرتے ہوں تو اس زمانہ میں چندے دینا بڑی نیکی نہیں ہو گی بلکہ جان دینا بڑی نیکی ہو گی۔اور اگر کسی زمانہ میں کھانے پینے کے لحاظ سے لوگ اس بات کے عادی ہو چکے ہے ہوں کہ وہ بھوکا رہنا برداشت نہ کر سکیں تو اُس زمانہ میں نہ جان دینا بڑی نیکی ہو گی اور نہ چندہ دینا بلکہ روزہ رکھنا بڑی نیکی سمجھا جائے گا۔ایسا ہی اگر کسی زمانہ میں عدل و انصاف اُڑ گیا ہو تو اس زمانہ میں عدل و انصاف کو قائم کرنا سب سے بڑی نیکی ہو گی۔اگر کسی زمانہ میں ماں باپ کا ہے ادب اولاد کے دلوں سے اٹھ گیا ہو تو اس زمانہ میں ماں باپ کا ادب سب سے بڑی نیکی کہلائے گا۔پس جو نیکی طبائع پر گراں گزرتی ہو اُس زمانہ کے لحاظ سے وہی سب سے بڑی نیکی ہو گی۔اور جس بدی کا چھوڑنا طبیعت پر گراں ہو اُس زمانہ میں وہی بدی اس زمانہ کے لحاظ سے کبیرہ کہلائے گی۔تو گناہ بھی اور نیکیاں بھی زمانہ کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہیں۔اس زمانہ میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ دوسرے سارے کام کر لیں گے ، چندے بھی دیں گے ، نمازیں بھی پڑھیں گے ، اور بھی کئی کام کر لیں گے لیکن جہاں دین کو دنیا پر مقدم کرنا پڑے گا وہاں ان میں سے کچھ کمزوری دکھلائیں گے۔پس ایسے موقع پر چندہ دینا بڑی نیکی نہیں کہلائے گا بلکہ اس میں موقع پر دین کو دنیا پر مقدم کرنا سب سے بڑی نیکی ہوگی کیونکہ ہر موقع پر نیکی کی شکل بدلتی ہے رہتی ہے اسی طرح یہ بھی ہے کہ امیر اور غریب میں امتیاز کیا جاتا ہے۔قضاء اور عدالت کے مج معاملہ میں کمزوری دکھائی جاتی ہے۔اور تو اور بعض لوگ میرے پاس بھی آجاتے ہیں حالانکہ میں وہ آخری شخص ہوں جس کو قضاء کا احترام قائم کرنا چاہیے۔لیکن وہ میرے پاس بھی ہے آجائیں گے اور مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِنْهَا 4 کی آیت پڑھ کر کہیں گے کہ میں اُن کی شفاعت کروں یا بطور قاضی یہ بد دیانتی کروں کہ جس کا حق ہے اُس کے