خطبات محمود (جلد 25) — Page 377
خطبات محمود 377 $1944 اور وعدے آچکے ہیں۔کچھ اور اطلاعات میرے پاس بھی آئی ہوئی ہیں اگر اُن کو بھی شامل کر لیا جائے تو پچاسی ہزار کے قریب یہ رقم بن جاتی ہے۔مگر جو نیا اسٹیمیٹ (ESTIMATE) لگایا گیا ہے اس کی بناء پر دولاکھ روپیہ خرچ کا اندازہ ہے اور رقم ابھی تک نصف بھی جمع نہیں ہے ہوئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی جماعت کا بہت سا حصہ ایسا رہتا ہے جس نے اس چندہ ہے میں حصہ نہیں لیا۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جس رفتار سے اس تحریک میں حصہ لیا گیا ہے ہے وہ بہت ہی سُست ہے۔میں نے مجلس شوری میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی اور بعد میں بھی مختلف مواقع پر میں توجہ دلا تارہا ہوں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس قدر یہ ضروری امر ہے اُسی قدر جماعت نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور اس کی طرف توجہ کرنے میں بہت بڑی نشستی سے کام لیا ہے۔پہلے سال کالج پر دولاکھ روپیہ خرچ کا یہ اندازہ ہے۔اس کے بعد تیس چالیس ہزار روپیہ سالانہ خرچ آئے گا۔میں نے بتایا تھا کہ یورپ کے فلسفہ کی اس وقت اسلام کے ساتھ ایک عظیم الشان جنگ جاری ہے اور اس فلسفہ کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شبہات پیدا کیے جارہے ہیں۔کہیں خدا کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جاتے ہیں، کہیں ملائکہ کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جاتے ہیں، کہیں روح کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جاتے ہیں، کہیں مرنے کے بعد کی زندگی کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جاتے ہیں۔غرض قسم قسم کے شبہات اور وساوس ہیں جو لوگوں کے قلوب میں پیدا کر کے اُن کو اسلام اور ایمان سے برگشتہ کیا جاتا ہے۔اس زہر کے ازالہ کا بہترین طریق یہی ہے کہ وہ کالج جن میں یورپ کا یہ فلسفہ پڑھایا جاتا ہے اُنہی کالجوں میں ایسے پروفیسر مقرر کیے جائیں جو دین کو سیکھنے اور اُس پر غور کرنے والے ہوں اور اُن کا یہ کام ہو کہ وہ دن رات اس جستجو میں رہیں کہ ان شبہات کا کس طرح ازالہ کیا جا سکتا ہے جن کو یورپ کا موجودہ فلسفہ لوگوں کے قلوب میں پیدا کر رہا ہے۔پھر ہمارا کام ہو گا کہ ہم اُن پروفیسروں کو بلائیں، اُن کے دلائل سنیں، انہیں ہدایات دیں، اُن کے علوم میں دلچسپی لیں اور ایسے دلائل مہیا کریں جن سے یورپ کے اِس زہر کا ازالہ ہو سکے اور قرآن کی حکومت دنیا پر قائم ہو۔مگر ایسے مواقع قادیان سے باہر