خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 351

$1944 351 خطبات محمود ہو تا تھا اور یہ دونوں قسم کے لوگ اس تحریک میں شامل تھے اور چونکہ کوئی معیار نہ تھا اس لیے اپنی آمد کی نسبت سے بہت ہی کم چندہ دینے والوں پر بھی ہم کوئی اعتراض نہ کر سکتے تھے کیونکہ ان کا ایسا کرنا قواعد کے مطابق تھا۔کیونکہ قاعدہ یہی تھا کہ ہر شخص پانچ روپیہ یا اس سے زیادہ دے کر شامل ہو سکتا ہے۔اور السابقون میں وہ لوگ شمار ہوتے تھے جو ہر سال پہلے سال میں سے بڑھا کر دیتے۔خواہ زیادتی ایک پیسہ یا ایک آنہ کی ہی ہو۔مگر وہ زمانہ گزر گیا اور السابقون من نے اپنا حق قائم کر لیا۔آئندہ اگر کوئی شخص شامل ہو نا چاہے تو اس کے لیے ضروری ہو گا کہ اُس کا ایک سال کا چندہ ایک ماہ کی آمد کے برابر ہو۔یعنی اگر کسی شخص کی تنخواہ سو روپیہ ماہواری ہے تو جب تک وہ ایک سال میں ایک سو روپیہ چندہ نہ دے وہ شامل نہ ہو سکے گا۔اسی طرح جس کی آمد ایک ہزار روپیہ ماہوار ہے وہ اگر شامل ہونا چاہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ ایک سال میں ایک ہزار روپیہ چندہ دے۔دوسری شرط یہ ہوگی کہ آئندہ شامل ہونے والوں کو بجائے دس سال کے انیس سال چندہ دینا ہو گا اور ہر سال پہلے سال سے اتنی زیادتی کرنی ہو گی جتنی کہ آمد میں زیادتی ہو گی۔ثلا ایک شخص کی آمد سو روپیہ ماہوار ہے اور اس نے پہلے سال سو روپیہ دے دیا، اگلے سال اپنے اس کی آمد ڈیڑھ سو روپیہ ہو گئی تو اسے دوسرے سال ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دینا ہو گا۔ہاں اگر اس کی آمد میں کوئی بھی ترقی نہ ہو تو پھر دوسرے سال اسے کچھ نہ کچھ زیادتی کرنی ہو گی۔اضافہ بہر حال کرناضروری ہو گا اور وہ اضافہ اتنا ہو گا جتنا وہ پسند کرے۔اگر اس نے پہلے سال سو روپیہ دیا اور اگلے سال اس کی آمد میں اضافہ نہیں ہوا تو وہ خواہ سورو پہیہ ایک آنہ یا سورو پسیہ ایک پیسہ دے دے یا جتنی زیادتی وہ چاہے کرتا جائے۔اس صورت میں زیادتی اس کی اپنی مرضی سے ہو گی۔لیکن اگر آمد میں زیادتی ہو تو اس سال کے چندہ میں زیادتی آمد میں زیادتی ہے کے برابر ہو گی اور اس طرح دس سال تک زیادتی کرنی ہو گی۔گیارھویں سال میں وہ پھر نویں سال کے برابر چندہ دے گا، بارھویں سال آٹھویں سال کے برابر ، تیرھویں سال ساتویں سال کے برابر ، چودھویں سال چھٹے سال کے برابر، پندرھویں سال پانچویں سال کے برابر، سولھویں سال چوتھے سال کے برابر، سترھویں سال تیسرے سال کے برابر، اٹھارویں سال