خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 303

خطبات محمود 303 $1944 کی تعداد 25،24 ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ چالیس کے قریب ہے۔اُن میں سے بعض کی ضربات شدید ہیں۔جیسے میاں عبد الرحیم احمد صاحب کی اور میاں فضل کریم صاحب پر اچہ کی۔ان کے ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی واقف تحریک جدید کے بھی سخت چوٹ آئی ہے اور شبہ ہے کہ ان کی آنکھ کے پاس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔اب تک وہ سر نہیں اٹھا سکتے۔مگر میں اس تمام عرصہ میں متواتر اپنے ہم آدمیوں کو یہ نصیحت کر رہا تھا کہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں، ماریں کھائیں مگر جواب نہ دیں۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ دشمن کی جو غرض تھی کہ جلسہ نہ ہو اور میں تقریر نہ کر سکوں وہ پوری ہے نہ ہو سکی اور ہم نے دعا اور تقریر کے بعد جلسہ ختم کیا۔جب خطرہ بڑھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ عورتوں کو یہاں سے پہرہ کے اندر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا جائے۔پہلے غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین کو پہنچائیں اور پھر احمدی خواتین کو۔اس کے لیے لاریاں منگوائی گئیں اور جس جس جگہ کو عورتوں نے اپنے لیے محفوظ سمجھا وہاں ان کو پہنچا دیا گیا۔مثلاً سکھ عورتوں نے کہا ہمیں گوردوارہ میں پہنچادیا جائے۔چنانچہ ان کو گوردوارہ میں پہنچادیا گیا۔اور عورتوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ تک ہمیں جلسہ گاہ میں انتظار کرنا پڑا۔مگر ان لوگوں کی شرافت کا یہ حال تھا کہ انہوں نے ان میں لاریوں پر بھی حملہ کیا جو عورتوں کو لے جارہی تھیں۔چنانچہ ایک گاڑی جس میں عورتیں تھیں ہیں انہوں نے اس کے آگے لاٹھیاں وغیرہ رکھ کر روک لی مگر میں چونکہ جانتا تھا کہ یہ لوگ ایسے اخلاق کے مالک ہیں اس لیے میں نے ہر لاری کے ساتھ محافظ لگانے کا حکم دیا تھا۔جب لاری رُک گئی تو انہوں نے بے تحاشا پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ان حملوں میں ہی ہمارے کئی نوجوان زخمی ہوئے اور بعض تو جب واپس آئے تو سر سے پاؤں تک خون میں نہائے ہوئے تھے۔مگر اس موقع پر بھی اللہ تعالی نے دشمن کو یہ بتادیا کہ گو احمدی صبر کرتے ہیں مگر جب ان پر خواہ مخواہ حملہ کیا جائے خصوصا جب عورتوں کی حفاظت کا سوال ہو تو وہ ڈرتے نہیں۔اسی سلسلہ میں ایک ہندور کیس نے ڈاکٹر لطیف صاحب کو سنایا کہ میں سڑک پر جا رہا تھا کہ سامنے سے ایک لاری آتی دیکھی جس میں عورتیں تھیں۔کئی سو آدمیوں کا ایک ہجوم آگے ہے