خطبات محمود (جلد 25) — Page 286
خطبات محمود 286 $1944 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر پڑھ رہے ہیں مگر کچھ تغیر کے ساتھ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شعر ہے یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا10 مگر میں خواب میں فرشتوں کے پڑھنے کی جو آواز سنتا ہوں اُس میں پہلے دو لفظ بدلے ہوئے ہیں۔یعنی فرشتے بجائے یہ کہنے کہ یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آپکا یہ کہتے ہیں کہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا سوچو جو شخص آنے کو تھا وہ تو آپکا راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تبدیلی اس زمانہ کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر کہا اُس وقت ہمارے سلسلہ کا ابتدائی زمانہ تھا اور لوگوں کو اس رنگ میں اپیل کرنا مناسب تھا۔مگر اب وہ زمانہ گزر چکا ہے اور اب ہے سلسلہ کی ترقی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کو سوچنا چاہیے اور اس بارہ میں انہیں ہے غور و فکر سے کام لینا چاہیے کہ جس شخص نے آنا تھا وہ تو آچکا۔چنانچہ میں نے سنا کہ فرشتے کہہ رہے ہیں سوچو جو شخص آنے کو تھا وہ تو آپکا راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا فرشتے اس شعر کو بہت بلند آواز سے اور بڑی رسیلی اور سریلی آواز میں پڑھ رہے ہیں اور میں سن رہا ہوں۔اس کے بعد مجھ پر ایک الہام نازل ہوا جس نے میرے ہوش اُڑا دیئے۔