خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 281

$1944 281 خطبات محمود تعمیل کر سکتے۔مگر اُس وقت ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔تم اگر فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اس کی صورت یہی ہے کہ اس قیامت کے آنے سے پہلے پہلے فائدہ حاصل کر لو۔غرض آپ نے بتادیا کہ میری موت تمہارے لیے قیامت ہو گی اور میری موت کے ہے آنے کے ساتھ ہی تم پر قیامت آجائے گی۔مگر سننے والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کو نہ سمجھا اور وہ اُسی قیامت کی اہمیت سمجھتے رہے جب سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت یکدم مر جائیں گے۔حالانکہ وہ قیامت کوئی تکلیف دہ چیز نہیں بلکہ ایک راحت اور آرام کی چیز ہے۔کیونکہ اب جو فکر ہوتا ہے کہ فلاں مر گیا تو کیا ہو گا یہ فکر اُس وقت کے نہیں ہو گا۔اب مرنے والا کہتا ہے کہ جب میں مر گیا تو پچھلوں کا کیا حال ہو گا اور پچھلے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اب ہمارا کیا بنے گا۔یہ دکھ اور تکلیف جو انفرادی اموات سے لوگوں کو ہوتی ہے اسے اگر قیامت کہا جائے تو بالکل ٹھیک اور درست ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے جو قیامت دنیا پر آئی یا حضرت عمر، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کی شہادت سے لوگوں پر قیامت آئی اسے جس قدر بڑھا کر سمجھ لو درست ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ قیامت جسے لوگ عرف عام میں قیامت کہتے ہیں اور جبکہ سب لوگ مر جائیں گے قطعا یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔اگر یہ کہو کہ اس قیامت کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اُس وقت کچھ لوگ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے تو سوال یہ ہے کہ اب جو لوگ مرتے ہیں کیا اُن میں سے کچھ لوگ دوزخ میں نہیں جاتے؟ پھر اس میں اور اُس میں فرق کیا ہوا؟ اب بھی لوگ مرتے ہیں اور اُس دن بھی لوگ مر جائیں گے۔فرق صرف یہ ہو گا کہ اب ایک ایک کر کے لوگ مرتے ہیں اور اُس دن سب لوگ اکٹھے مر جائیں گے۔پس یہ قیامت ہر گز کوئی ایسی چیز نہیں جس سے ڈر اور خوف محسوس کیا جائے۔اصل قیامت جس کے لیے لوگوں کو تیار رہنا چاہیے وہ ہم وہی قیامت ہے جب نبی فوت ہو جاتا ہے یا جب کسی نبی کی جماعت اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ترقی کرے اور اُس کے دشمن تباہ و برباد ہو جائیں۔وہ وقت ایک قیامت کا وقت ہوتا ہے اور وہی ایک قیامت ہے جس کے لیے تیاری اور بہت بڑی تیاری کی ضرورت ہے۔اگر نبی کی جماعت دنیا میں ترقی کر جائے، اس کے دشمنوں کی بربادی کا وقت قریب آ پہنچے لیکن جماعت میں ނ