خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 275

$1944 275 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی وہاں گئے۔آپ کی نعش کو انہوں نے دیکھا اور پھر واپس آگئے اور لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے اور اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔یعنی ایک تو یہ موت جو آپ پر آئی اور دوسری یہ موت کہ تم چاہتے ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس دنیا میں آئیں اور پھر فوت ہوں۔یا ممکن ہے آپ کا منشاء یہ ہو کہ تم اس وقت جو کچھ کہہ رہے ہو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منشاء اور آپ کی تعلیم کے خلاف ہے۔وہ موت جو آپ پر وارد ہو چکی وہ اصل موت نہیں۔وہ تو جسم سے روح نکل کر اپنے آقا اور محبوب کے پاس چلی گئی ہے۔اصل موت یہ ہے کہ وہ بات جس کو روکنے کے لیے آپ نے ساری عمر خرچ کر دی وہی آپ کی وفات پاتے ہی پھر پیدا ہو جائے اور پھر ساری قوم شرک میں مبتلا ہو جائے۔یہ موت ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی وارد نہیں کرے گا۔اِس طرح یہ الفاظ کہہ کر انہوں نے بتادیا کہ تمہارا یہ کہنا کہ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو ہم تلوار سے اس کی گردن اڑا دیں گے یہ محض ایک دھوکا اور غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔اور تمہارا یہ جوش عارضی اور وقتی ہے ورنہ تم مومن اور موقد ہو اور خدا اور رسول کے عاشق ہو۔جب میں تمہیں سچی تعلیم بتاؤں گا تو اس وقت تم اپنے ان تمام خیالات کو چھوڑ دو گے اور اسی تعلیم کو اختیار کرو گے جو صحیح اور حقیقی ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حضرت ابو بکر نے جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا اِس کا مطلب یہی تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ جسمانی طور پر بھی وفات پا جائیں اور روحانی طور پر بھی آپ کی قوم پر موت وارد ہو جائے۔پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ۔اے لوگو! تم میں سے جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔مگر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا۔چونکہ ان لوگوں کے دلوں میں ایمان تھا۔صرف ایک قیامت تھی جو اُن پر آئی اور انہوں نے ایک ایسی خبر