خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 228

$1944 228 خطبات محمود جنگلوں میں بھٹکتے پھر نا کیا ان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے ؟ لیکن اُن لوگوں نے ایسا کر کے دکھا دیا۔پھر ہم دیکھتے ہیں اور انبیاء جو بنی اسرائیل میں ہوئے یا اور ممالک میں پیدا ہوئے ان کے ساتھیوں نے بھی حیرت انگیز قربانیاں کیں۔ہندوستان میں ہی حضرت کرشن علیہ السلام کے ساتھیوں نے ایک بھاری جنگ میں دشمن کے مقابلہ میں متواتر قربانی کی اور اپنی جانیں حضرت کرشن علیہ السلام کے حکم پر نثار کر دیں۔حالانکہ اس میں ان کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں تھا بلکہ ان کے لیے ایک ابتلاء اور ٹھوکر کا مقام تھا۔کیونکہ حضرت کرشن جس شخص کی تائید کے لیے کھڑے ہوئے تھے ، وہ ان کا ایک رشتہ دار تھا۔پس وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ لڑائی اپنے ایک رشتہ دار کے لیے کی جارہی ہے ہم اس میں کیوں حصہ لیں۔مگر انہوں نے اس بات کی می کوئی پروا نہ کی۔ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لوگ جمع ہوئے اور ان کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ کرتے رہے۔دشمن زبر دست تھا، وہ اپنی طاقت اور تعداد میں زیادہ تھا۔مگر پھر بھی ایک لمبے عرصہ تک وہ اپنی جانوں کو ان کے حکم پر قربان کرتے رہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالی نے پانسہ پلٹ دیا اور حضرت کرشن اور ان کے ساتھیوں کو فتح ہوئی۔ہم حضرت زرتشت اور ان کے ساتھیوں کو دیکھتے ہیں تو انہوں نے بھی اس قدر قربانیاں کی ہیں کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔حالانکہ اُس زمانہ میں لوگوں کو وہ سہولتیں میسر ہے نہیں تھیں جو اس زمانہ میں میسر ہیں۔اب نہ جان دینے کا مطالبہ ہوتا ہے، نہ وطن چھوڑنے کا مطالبہ ہوتا ہے۔صرف چند سالوں کے لیے ایک مبلغ باہر جاتا ہے اور ان چند سالوں کے لیے بھی اُسے اِس قدر سہولتیں میسر ہوتی ہیں کہ ڈاک جاری ہوتی ہے ، ہوائی جہازوں سے خط آتے جاتے ہیں، تاریں آجاتی ہیں، وہ بیمار ہو تو چند گھنٹوں کے اندر اندر اطلاع پہنچ جاتی ہے، اُس کے بیوی بچے بیمار ہوں تو چند گھنٹوں میں اُسے اطلاع ہو جاتی ہے۔کوئی موت ہو تو اس کی فوراً اطلاع بھجوادی جاتی ہے، اُس کے گھر میں کوئی مصیبت آئے تو سلسلہ ایک حد تک اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے روپیہ بھی خرچ کرتا ہے۔کوئی بیمار ہو تو جماعت کے ڈاکٹر علاج کے لیے موجود ہوتے ہیں۔غرض اس زمانہ میں کئی قسم کے آرام اور کئی قسم کی سہولتیں لوگوں کو میسر ہیں۔