خطبات محمود (جلد 25) — Page 22
$1944 22 22 خطبات محمود کے لیے دکاندار کے ایک اصول کو توڑ دیا، وہ شخص جس نے دو چار روپوں کے لیے نہ صرف اپنا وقت ضائع کیا بلکہ ہمارا وقت بھی ضائع کیا وہ اور اسی قسم کے اور لوگ بجائے مال لینے سے انکار کرنے کے میرے نزدیک تو اس بات کے لیے بھی تیار ہو جائیں گے کہ اگر انہیں روپوں کے لیے لیے ناک بھی رگڑنی پڑے تو انہیں اس میں کوئی عذر نہ ہو گا۔ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ نوح کے ہے زمانے سے لے کر تمام انبیاء یہ خبر دیتے چلے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اتنے گناہ ہوں گے ، اتنی خرابیاں ہوں گی کہ اتنی خرابیاں اور کسی نبی کے وقت میں نہیں ہوں گی۔گویا ہے ادھر تو آپ یہ فرماتے ہیں کہ وہ زمانہ ایسا خراب ہو گا کہ اس کی مثال اور کسی زمانہ میں نہیں ملے گی اور دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ آپ یہ فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے لوگ اتنے ہی وسیع الحوصلہ ہوں گے ، اس قدر ان کے نفس دنیوی اموال کی محبت سے بیزار ہو چکے ہوں گے اور ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اس طرح جاتی رہے گی کہ مسیح موعود اُنہیں مال دے گا مگر وہ لینے سے انکار کر دیں گے۔ان دونوں باتوں کا ایک زمانہ میں اجتماع عقل کے بالکل خلاف ہے۔یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے کہ مسیح موعود کا زمانہ ایسا اعلیٰ ہو گا کہ لوگ می سیر چشم ہوں گے ، ان کی طبیعتوں میں غناء کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا، ان کے دل دنیاوی اموال کی محبت سے بالکل خالی ہوں گے ، حرص اور لالچ اور طمع ان کے اندر نہیں ہو گا اور وہ اس قدر دنیا سے دور ہوں گے کہ مسیح موعود ان کو مال دے گا تو وہ کہیں گے حضرت ! ہم نے اس جیفہ دنیا کو کیا کرنا ہے ہمیں خدا کی رضا کافی ہے۔مگر ایک طرف یہ کہنا کہ اس زمانہ کے لوگ سخت خراب اور گندے ہوں گے ، ان کی طبیعتوں میں لانچ پایا جاتا ہو گا، وہ شیطان کی مچی اتباع کرنے والے ہوں گے ، بات بات پر لڑائی جھگڑا کریں گے ، خدا اور رسول کی محبت ان کے ا دلوں سے اٹھ جائے گی اور اس قدر خرابیاں ان میں پیدا ہو چکی ہوں گی کہ نوش کے زمانہ سے لے کر آج تک کسی نبی کے زمانہ کے لوگ اتنے خراب نہیں ہوئے۔اور دوسری طرف یہ کہنا ہے کہ وہ اتنے سیر چشم، اتنے نیک اور متقی اور اس قدر غناء کا مادہ اپنے اندر رکھنے والے ہوں گے کہ مسیح موعود ان کو مال دے گا تو وہ اس کو لینے سے انکار کر دیں گے۔یہ دو باتیں ایسی ہیں جن کا