خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 216

خطبات محمود 216 $1944 دوست چندے میں قربانی کرتے ہیں لیکن زندگی وقف کرنے کے لیے بہت کم لوگ آئے ہیں۔ضرورت ہے کہ آئندہ مدرسہ احمدیہ میں زیادہ بچے داخل کرائے جائیں اور میں انجمن کو توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے رنگ میں ان کی تعلیم کا انتظام کیا جائے کہ چاہے مولوی فاضل وہ نہ ہے سکیں مگر دینی علوم کے ماہر بن جائیں۔ہمیں مولوی فاضلوں کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت یہ ہے کہ مبلغ مل سکیں۔مالی کمزوری کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہر سال تین نئے مبلغ رکھے جائیں مگر کئی سالوں سے ایک بھی نہیں رکھا گیا اور اب کئی سال کے بعد ایک رکھا گیا ہے۔حالانکہ کام کی وسعت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر سال ایک سو نہیں بلکہ دو سو مبلغ رکھے جائیں۔پس میں ایک تحریک تو یہ کرتا ہوں کہ دوست مدرسہ احمدیہ میں اپنے بچوں کو بھیجیں تا انہیں خدمت دین کے لیے تیار کیا جاسکے اور دوسری تحریک انجمن کو یہ کرتا ہوں کہ پڑھائی کی سکیم ایسی ہو کہ تھوڑے سے تھوڑے عرصہ میں زیادہ سے زیادہ دینی تعلیم حاصل ہو سکے اور اس رستہ میں جو چیز بھی حائل ہو اُسے نکال دیا جائے۔مولوی فاضل بنانا ضروری نہیں۔جس نے ڈگری حاصل کرنی ہو وہ باہر چلا جائے۔اس دوغلا پن کو دور کرناضروری ہے۔دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے والا کبھی ساحل پر نہیں پہنچا کر تا۔پس تعلیم کا انتظام ایسے رنگ میں کیا جائے کہ جلد سے جلد مکمل علماء ہمیں مل سکیں۔فقہ، تفسیر، حدیث، تصوف اور کلام وغیرہ علوم میں ایسی دسترس حاصل کر سکیں کہ چوٹی کے علماء میں ان کا شمار ہو۔بلکہ دنیا میں صرف وہی علماء سمجھے جائیں اور اسلام کے ہر فرقہ اور ہر ملک کے لوگ اختلاف عقائد کے باوجود یہ تسلیم کریں کہ اگر ہم نے ان علوم کو سیکھنا ہے تو احمدی علماء سے ہی سیکھنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری ہے جماعت کا ایک حصہ تبلیغ میں حصہ لیتا ہے مگر ضرورت ہے کہ اس طرف اور زیادہ توجہ کی جائے۔اب کے جو میں نے اعلان کیا تو دسویں جماعت کے پانچ طلباء نے بھی اپنے نام پیش کیے ہیں دنیوی علوم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اگر اپنے نام پیش کریں تو اُن کو بھی ☆ اس کے بعد اور نوجوان میٹرک پاس نے وقف کیا ہے اور بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ والوں نے