خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 20

خطبات محمود 20 $1944 دلائی ہے کہ ہم تجھے ایک ایسا بیٹا عطا فرمانے والے ہیں جو بہت ہی صدقہ و خیرات کرنے والا ہو گا۔دوسری طرف ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت جو پیشگوئی احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فرمائی ہوئی پاتے ہیں اس میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ مال تقسیم کرے گا اور لوگ اس کو لیں گے نہیں۔يُفيضُ الْمَالَ۔وہ مال دنیا میں بہادے گا۔لوگوں نے اس کے معنے یہ سمجھے ہیں کہ شاید وہ سونے اور چاندی کے سکے لوگوں کو دے گا۔حالانکہ سونے اور چاندی کے جو سکتے ہیں ان کو قبول کرنے والے کچھ نہ کچھ لوگ ہمیشہ ہی دنیا میں موجود رہتے ہیں۔کروڑوں کروڑ روپیہ رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں مگر پھر بھی ان کے دلوں میں لوگوں سے مال لینے کی حرص اور خواہش ہوتی ہے۔کئی دفعہ بڑے بڑے افسروں کے خلاف ریل میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے کے الزام میں مقدمات چل جاتے ہیں۔حالانکہ غریب آدمی بالعموم پیسے ادا کر کے ٹکٹ لیتے ہیں۔تم کبھی کسی دکاندار کے سامنے ایک غریب سے غریب شخص کو بھی یہ کہتے نہیں سنو گے کہ میری غربت کی وجہ سے تم فلاں ہے چیز کی قیمت کم کر دو۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دکاندار میرے کہنے پر قیمت کم نہیں کرے گا۔لیکن کئی مالداروں کو میں نے دیکھا ہے وہ دکانداروں سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری خاطر تم ہے اس میں سے کتنا چھوڑو گے ؟ حالانکہ وہ روپے والے ہوتے ہیں۔مگر باوجود اپنے تمول اور اپنی دولت کے اور باوجود اپنے پاس زیادہ روپیہ رکھنے کے ان کی حرص کم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہی ہے ہوتی ہے۔اور وہ دکاندار سے بار بار یہی کہتے سنے جاتے ہیں کہ ہم جو تمہاری دکان پر چل کر آئے ہیں تو اب ہماری خاطر تمہیں قیمتیں ضرور کم کرنی پڑیں گی۔چند سال ہوئے میں بمبئی گیا۔وہاں ایک دن میں کپڑ ا خریدنے کے لیے ایک دکان پر چلا گیا اور میں نے دکاندار سے کہا کہ کئی دکاندار ایسے ہوتے ہیں جو اپنی چیزوں کی قیمتیں آگے ہے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔پنجاب میں بھی ایسے دکاندار پائے جاتے ہیں اور بمبئی میں بھی ہیں۔تم ہی یہ بتاؤ کہ تمہارا کیا اصول ہے ؟ وہ کہنے لگا ہماری چیزوں کی تو ایک ہی قیمت ہوا کرتی ہے۔میں نے کہا می اب اس پر قائم رہنا۔ہم بھی تمہارے ساتھ قیمتوں کے متعلق کوئی جھگڑا نہیں کریں گے۔اُس وقت اس دکان میں دو اور آدمی بھی بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے اُس سے کوئی سودا