خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 196

$1944 196 خطبات محمود ادا کرنے کا مادہ بہت زیادہ پایا جاتا تھا۔انہوں نے یہ سنا تو کہا کہ حضور! اللہ کا بڑا احسان تھا مسجد خوب لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔اُس میں بیٹھنے کے لیے ذرا بھی گنجائش نہیں رہی تھی۔تب میں نے سمجھا کہ اُس احمدی نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کا یہی ذریعہ رکھا ہے کہ ہماری مسجدیں بڑھتی جائیں اور لوگوں سے ہر وقت آباد رہیں۔جب تک تم مسجدوں کو آباد رکھو گے اُس وقت تک تم بھی آبادر ہو گے اور جب تم مسجدوں کو چھوڑ دو گے ، اس وقت اللہ تعالیٰ تم کو بھی چھوڑ دے گا۔غرض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے میری تحریک کو قبول فرمایا اور چند گھنٹوں کے اندر اندر ہمارے اندازہ سے زیادہ روپیہ جمع ہو گیا۔میر امنشاء ہے کہ اب مسجد مبارک میں ایک لاؤڈ سپیکر بھی لگا دیا جائے کیونکہ نمازیوں کے زیادہ آنے کی وجہ سے بات دُور تک آسانی سے پہنچائی نہیں جاسکتی۔باہر کے لوگوں کو گھبرانا نہیں چاہیے کہ وہ اس تحریک میں حصہ لینے سے محروم رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے لیے ثواب کے اور مواقع بہم پہنچا دے گا۔ابتدائے خلافت میں جب لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ چند مجاوروں نے، جن کا کام روٹیاں کھانا تھا، خلافت کو تسلیم یا ہے تو معلوم ہوتا ہے قادیان کے لوگوں کو اس سے ضرور صدمہ ہوا ہو گا۔کیونکہ انہی دنوں میں میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ "مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں"۔پس یہ خلافت کی برکت ہی ہے جو تم دیکھ رہے ہو کہ کس طرح قادیان کے غریبوں اور مسکینوں نے ایسی قربانی پیش کی ہے جس کی نظیر اور کسی جماعت میں نہیں مل سکتی۔آج مجھے حیرت ہوئی جبکہ ایک غریب عورت جو تجارت کرتی ہے، جس کا سارا سرمایہ سو ڈیڑھ سوروپیہ کا ہے اور ہندوؤں سے مسلمان ہوئی ہے صبح ہی میرے پاس آئی اور اُس نے دس دس روپیہ کے پانچ نوٹ یہ کہتے ہوئے مجھے دیئے کہ یہ جمعہ کے معا بعد ایک احمدی، بجلی کے کار خانہ کے مالک نے پیش کیا کہ وہ لاؤڈ سپیکر اس غرض کے لیے مسجد کو اپنی فرم کی طرف سے پیش کریں گے۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاء