خطبات محمود (جلد 25) — Page 17
$1944 17 خطبات محمود طبیعت بدل گئی ہے۔اسی طرح جب ایمان کسی شخص کی طبیعت ثانیہ بن جاتا ہے تو اسے کوئی طاقت ایمان سے منحرف نہیں کر سکتی۔اس کا سلوک جیسے مومنوں سے ہوتا ہے اسی طرح کافروں سے حسن سلوک کرنا اس کا شیوہ ہوتا ہے۔جس طرح تمہاری شکلیں تبدیل نہیں ہو سکتیں، جس طرح تمہارا رنگ تبدیل نہیں ہو سکتا، جس طرح یہ نہیں ہو سکتا کہ تمہاری شکل تمہارے دوست کو اور طرح نظر آئے اور تمہارے دشمن کو اور طرح دکھائی دے، تمہارا دوست تمہارے رنگ کو سفید سمجھے اور تمہارا دشمن تمہارے رنگ کو سیاہ سمجھے اسی طرح اگر ایمان تمہاری طبیعت ثانیہ بن چکا ہے تو یہ نا ممکن ہے کہ تم ایک سے کچھ سلوک کرو اور دوسرے سے کچھ سلوک کرو۔لیکن اگر تمہاری طبیعت ثانیہ نہیں بنا تو جب بھی قربانی کا موقع آئے گا تم پھسل جاؤ گے اور تم کبھی بھی مومنوں کی صف میں کھڑے نہیں رہ سکو گے۔پس اگر ایمان کسی شخص کی طبیعت ثانیہ نہیں بنا۔یا اگر کوئی شخص ایسا ہے جو کہتا ہے میں احمدی سے جھوٹ نہیں بولتا صرف غیر احمدی سے جھوٹ بولتا ہوں، یا احمدی سے بد دیانتی نہیں کرتا صرف ہندو یا سکھ سے بد دیانتی کرنا جائز سمجھتا ہوں تو یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا، یہ تھرمامیٹر ہوتا ہے اس امر کے پہچاننے کا کہ تمہارے اندر کس قدر ایمان پایا جاتا ہے۔پس اگر کسی شخص میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ اپنوں اور غیروں سے معاملہ کرتے وقت اخلاق اور محسن سلوک میں امتیاز کرتا ہے ہے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اُس کا ایمان کچا ہے اور جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کے دین کے لیے قربانی کی آواز آئے گی اس کا نفس کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اُسے قبول کرنے سے محروم رہ جائے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس نقص سے بچائے اور ہمارے اندر وہ اخلاق پیدا فرمائے جو دنیا میں ہر شخص کو نظر آنے لگ جائیں۔خواہ وہ ہمارا واقف ہو یا نا واقف اور خواہ وہ ہمارے مذہب کو ماننے والا ہو یا نہ ماننے والا۔ہمارا حسن سلوک ہر شخص سے یکساں ہو اور ہمارے اندر وہ اپنے فضل و کرم سے ایسی مضبوطی پیدا کرے کہ ہم خدا تعالیٰ کی آواز سننے اور اُسے قبول کرنے کے لیے ہر وقت اور ہر حالت میں تیار رہیں۔اللهم آمین۔66 الفضل 12 / اپریل 1944ء) 1 : ترمذی ابواب الصلوة باب ما جاء في كراهية الكلام والامام يخطب