خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 151

خطبات مج محمود وہ 151 $1944 اگر ایمان لانے کی دل میں محض خواہش پیدا ہو تو ایسا شخص خدا تعالیٰ کے ہاں مومن شمار نہیں ہونے لگتا۔جیسے ایک شخص مثلاً مزدوروں کے بارہ میں اسلام کی تعلیم کو پڑھتا یا سنتا اور اس کی تعریف کرتا ہے۔جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں ہر شخص کی روٹی اور امین کپڑے کی ذمہ دار حکومت تھی اور تعلیم کا بندوبست بھی حکومت کرتی تھی اور دوسری طرف یہ دیکھتا ہے کہ ہندوستان میں لاکھوں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تو ہے دہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ کاش! ہمیں بھی ایسی حکومت نصیب ہوتی۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ایسا کہنے والا مسلمان ہو گیا۔کیا کوئی مسلمان اسے مسلمان سمجھ کر اس سے رشتہ وغیرہ قائم کرنے کو تیار ہو گا؟ ہر گز نہیں۔بلکہ اس کے معنے تو صرف یہ ہیں کہ تمدن کے متعلق اسلام کی تعلیم کو لوگ بر تر اور افضل سمجھتے ہیں۔یا مثلاً ایک عورت ہے جس کی اپنے خاوند سے ہے لڑائی رہتی ہے اور خاوند اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا، کسی مسلمان عورت کے ساتھ اس کی ملاقات ہو اور اس کو پتہ لگے کہ اسلامی نظام اور احکام کے ماتحت عورت طلاق حاصل کر سکتی ہے اور وہ یہ بات معلوم کر کے کہے کاش! ہمارے مذہب میں بھی ایسا ممکن ہوتا۔تو اس کے یہ معنے ہر گز نہیں ہو سکتے کہ وہ مسلمان ہو گئی۔نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور مسلمان سمجھی جائے گی اور نہ لوگ اسے مسلمان سمجھ کر اس سے ایسا سلوک کریں گے جو ایک مسلمان دوسرے سے کرتا ہے۔اس کے دل پر چونکہ چوٹ لگی ہوئی تھی جب اسے معلوم ہوا کہ اس میں کی مشکل کا حل اسلامی تعلیم میں موجود ہے تو وہ اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکی۔مگر اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ وہ اس بارہ میں اسلام کی تعلیم کی برتری کا اعتراف کرتی ہے۔غرض ہر شخص جب اپنے پیشہ یا اپنے طبقہ کے لیے اسلام کی تعلیم معلوم کرتا تو بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ کاش! ہمارے ہاں بھی ایسے ہی احکام ہوتے۔مگر اس کے یہ معنے ہے ہر گز نہیں کہ وہ مسلمان ہو گیا۔نہ لوگ اسے مسلمان سمجھتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اسے مسلمان قرار دیتا ہے۔اس قسم کی ہزاروں مثالیں دنیا میں موجود ہیں اور ہزاروں قسم کے لوگ ہیں جو چی اپنی اپنی حیثیت مثلاً باپ بیٹا، بھائی بہن، ماں باپ، خاوند بیوی، مزدور آقا کی حیثیت سے اسلام کی تعلیم کی برتری کا اقرار کرتے ہیں۔اپنے اپنے مذہب کی تعلیم سے دکھی دلوں کو جب اسلام میں