خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 137

$1944 137 محمود موعود اسی طرح ایک اور شخص نے ایک دفعہ غلو سے کام لیا اور حضرت سیح۔علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کو اس نے شرعی نبوت کا نام دینا شروع کر دیا۔میں نے اس شخص کے خلاف فوراً اعلان کیا اور اس سے قطع تعلق کا حکم دے دیا۔وہ سمجھتا تھا کہ شاید احمدی اس کی اس بات سے خوش ہوں گے مگر میں نے اپنی جماعت کو اُس سے تعلق رکھنے سے منع کر دیا۔ہاں! پیغامیوں نے اسے اپنے سینہ سے لگالیا۔غرض کسی کو موقع نہیں ملا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالمقابل کھڑا کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق غیرت میرے دل میں اپنے رسولوں سے بھی زیادہ رکھی ہے اور یہی اصل ایمان ہوتا ہے۔ہم کتنا ہی رسولوں سے عشق رکھتے ہوں خدا کا مقام خدا کا ہی ہے۔پس جہاں خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں اپنے عمل اور اپنی زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درجہ کو قائم کروں، وہاں اس نے مجھے اس امر کی بھی توفیق عطا فرمائی کہ رات اور دن، سوتے اور جاگتے ایک منٹ اور ایک ساعت کے لیے بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل کا وجود خیال نہیں کیا۔بلکہ ہر حالت میں میں نے یہی سمجھا کہ میں آپ کو وہی ہے جگہ دوں جو ایک استاد کے مقابلہ میں شاگرد کو اور ایک آقا کے مقابلہ میں غلام کو حاصل ہوتی ہے۔مگر باوجود اس شدید محبت کے جو مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے۔چنانچہ جو لوگ میرے خطبات اور تقریریں سنتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مجھ پر کبھی کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا کوئی واقعہ میں نے بیان کیا ہو اور رقت سے میر اگلانہ پکڑا گیا ہو۔دنیا میں محبتیں ہوتی ہیں کسی وقت کم اور کسی وقت زیادہ۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مجھے ایسی شدید محبت ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں کہ میں نے آپ کا ذکر کیا ہو اور مجھے پر رقت طاری نہ ہو گئی ہو اور میر اقلب محبت کی گہرائیوں میں نہ ڈوب گیا ہے ہو۔لیکن باوجود اس کے میں نے ایک لمحہ کے لیے بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کو خدا کے مقابلہ میں نہیں رکھا بلکہ ہمیشہ اُس کے چاکروں اور غلاموں کی حیثیت میں ہی آپ کو دیکھا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت میرے دل پر اس طرح ڈال دی ہے کہ وہ ہمیشہ میرے سامنے اُسی طرح آیا ہے جس طرح قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ میں اُس کی شان کو بیان کیا گیا ہے۔میں نے اس کی