خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 135

$1944 135 خطبات محمود پاگل پن بجھتی۔مگر میں اپنے نفس میں اس عہد کو سب سے بڑی ذمہ داری اور سب سے بڑا فرض سمجھتا تھا اور اس عہد کے کرتے وقت میرا دل یہ یقین رکھتا تھا کہ میں اس عہد کے کرنے میں اپنی طاقت سے بڑھ کر کوئی وعدہ نہیں کر رہا۔بلکہ خدا تعالیٰ نے جو طاقتیں مجھے دی ہیں انہی کے مطابق اور مناسب حال یہ وعدہ ہے۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے س نے ہمیشہ ہی اس عہد کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور جب بھی کوئی ایسا رخنہ جماعت میں پیدا ہونے لگا جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لائی ہوئی تعلیم میں کوئی نقص واقع ہونا تھا تو خدا نے میرے ہاتھ سے اس رخنہ کو بند کرا دیا۔دشمن ہمیشہ مجھ پر الزام لگاتا ہے کہ میں نے ایک ایک کر کے حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو نعوذ باللہ بگاڑ دیا ہے اور میں اپنے دل میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا نے ایک ایک کر کے مجھے سچائیوں کے قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔ایک منٹ کے لیے بھی ہے میں شبہ نہیں کر سکتا کہ مجھ سے ان معاملات میں غلطیاں ہوئی ہیں۔بلکہ خواہ مجھے ایک کروڑ زندگیاں دی جائیں اور ایک کروڑ دفعہ مرکز میں پھر اس دنیا میں واپس آؤں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ میں پھر بھی اسی طرح ان صداقتوں کی تائید کروں گا جس طرح گزشتہ زندگی میں کر تا رہا ہوں۔میرے لیے سب سے بڑا فخر یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ تعلیمیں جنہیں بعض لوگ مٹانے کی فکر میں تھے، جنہیں بعض لوگ دبانے کی فکر میں ہے تھے اللہ تعالیٰ نے اُن کو میرے ذریعہ زندہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح مقام میرے منہ سے ظاہر فرمایا۔چیز موجود تھی مگر دنیا اس چیز کو منانے لگی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے اور بار بار کا الہام ہے کہ خدا کا ایک نور آیا لوگوں نے اس کو مٹانا چاہا۔مگر اللہ نے اُن کی اِس بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ضرور اس نور کو پورا کر کے چھوڑے گا۔وَيَأْبَى اللهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُوْرَكَ اس الہام میں اسی امر کی طرف اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم اور آپ کے درجہ پر لوگوں نے حملہ کرنا تھا۔کچھ لوگوں نے اندرونی طور پر اور کچھ لوگوں نے بیرونی طور پر۔اللہ تعالیٰ اپنے کام کے لیے آسمان سے نہیں اترتا۔وہ اپنے کسی بندے کے ہاتھ کو ہی اپنا ہاتھ ہے