خطبات محمود (جلد 25) — Page 114
$1944 114 خطبات محمود۔سب جہان پر ہے اُسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دائرہ سے دنیا کا کوئی خطہ اور دنیا کا کوئی ملک باہر نہیں۔ہر اسود و احمر کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور ایک ہی دین لے کر آئے۔لیکن مسلمان پیج اعوج کے زمانہ میں اس طرح ہے گروہ در گروہ ہو چکے تھے کہ وہ وحدت جو مسلمانوں کی امتیازی شان تھی، بالکل مٹ گئی تھی۔تب خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کے ذریعہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے وہ مشابہت تائمہ عطا کر دی جو پہلے لوگوں کو حاصل نہیں تھی۔پہلے انسان اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا چاہتا تھا تو کوئی چشتیوں کے میں سے ہو کر کرتا تھا، کوئی نقشبندیوں میں سے ہو کر کرتا تھا، کوئی سہر وردیوں میں سے ہو کر کرتا تھا، کوئی قادریوں میں سے ہو کر کرتا تھا۔اور یہ تو چند بڑے بڑے فرقوں کے نام ہیں ان کے کے علاوہ اور ہزاروں روحانی فرقے مسلمانوں میں پیدا ہو چکے تھے۔لیکن آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعہ پھر ساری دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے جمع کر دیا ہے۔پس آج جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے وہ براہ راست محمدی سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت کرتا ہے۔وہ قادری سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت نہیں کرتا، وہ چشتی سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے ہے محبت نہیں کرتا، وہ نقشبندی سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت نہیں کرتا، وہ سہر وردی فرقہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت نہیں کرتا بلکہ محمد ی سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت کرتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بنی نوع انسان کو پہلے لوگوں سے بہت زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کر سکتے اور انہیں آپ کی صحبت سے مستفیض ہونے کے مواقع بہم پہنچا سکتے ہیں۔پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لے جانے والے ملی حضرت معین الدین صاحب چشتی یا حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی وغیرہ تھے۔مگر آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لے جانے کے لیے مشیل محمد موجود ہے اور یہ صاف بات ہے کہ جہاں مثیل محمد پہنچ سکتا ہے وہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی جزوی نمونہ نہیں پہنچ ہے سکتا۔پس اللہ تعالی نے ہمیں وہ زمانہ عطا فرمایا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے