خطبات محمود (جلد 25) — Page 110
خطبات محمود 110 $1944 پھر آپ کے بعد اب خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مثیل قرار دیا ہے۔پس جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے والے صحابہ سے جا ملے اسی طرح وہ لوگ جو آج یا آئندہ میرے نقش قدم پر چلیں گے ، جو میری اتباع میں اسلام اور احمدیت میں کے لیے ویسی ہی قربانیاں کریں گے جیسے صحابہ نے کیں، چونکہ میں مسیح موعود کا مثیل ہوں اس لیے وہ مجھ پر ایمان لانے اور میرے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے مسیح موعود کے صحابہ کے ہے مثیل ہو جائیں گے اور وہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے مثیل ہیں اس لیے بھی اس مماثلت کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں شامل ہو جائیں یہ گے۔وہ لفظ جو عام طور پر لوگوں کو دھو کا میں ڈالتا ہے اور جسے سن کر وہ سمجھتے ہیں کہ اب شاید یہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا، صحابی کا لفظ ہے۔صحابی کے معنے ہوتے ہیں صحبت یافتہ شخص۔پس وہ کہتے ہیں جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا ہی نہیں اور جسے آپ کی صحبت نصیب ہی نہیں ہوئی وہ صحابی کس طرح کہلا سکتا ہے۔چاہے اپنے دل میں وہ کتنا ہی اخلاص رکھتا ہو ہم اُسے صحابی نہیں کہیں گے کیونکہ اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی۔اس کے لیے یاد رکھو کہ دو باتیں ایسی ہیں جن سے اس وسوسہ کا ازالہ ہو سکتا ہے۔جہاں تک صحابیت کے درجے اور مقام کا تعلق ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ آنے والے لوگوں کے لیے اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں پژمردگی پیدا نہ ہو اخوان کا لفظ استعمال کیا ہے۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد لوگ پیدا ہوں گے وہ میرے اخوان ہوں گے۔صحابہ نے کہا یارسول اللہ ! کیا وہ ا خوان ہوں گے ہم اخوان نہیں ہیں؟ حالانکہ دین کے لیے قربانیاں ہم کر رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم دین کے لیے قربانیاں کر رہے ہو مگر تم میرے صحابی ہو اور وہ لوگ میرے اخوان ہوں گے۔5 گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق جو بعد میں پیدا ہونے والے تھے اور جن پر صحابی کا لفظ ظاہراً اطلاق نہیں پاسکتا تھا اخوان کا لفظ استعمال کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم تو میرے صحابہ ہو مگر وہ ہے