خطبات محمود (جلد 25) — Page 765
$1944 765 خطبات محمود نظام الدین اولیاء وغیرہ اس کی تلقین کرتے رہے۔مگر پھر بھی جو حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے۔کیا سب لوگ نمازیں پڑھتے ہیں؟ بلکہ آجکل تو اکثر مسلمان بھی نہیں پڑھتے۔پس بار بار کہتے رہنا ضروری ہوتا ہے۔بار بار کہنے سے ہی قوموں کی تربیت ہوتی ہے۔جب کسی قوم می میں یہ خیال پیدا ہو کہ اب کہنے کی ضرورت نہیں، جب کسی قوم کے افراد کو تکرار بُرا لگنے لگتا ہے تو وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے۔تکرار سے ہی زندگی پیدا ہوتی ہے۔جماعت میں ہمیشہ نئے آدمی ہے شامل ہوتے رہتے ہیں۔جن کو علم نہیں ہوتا اُن کو آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ایسے لوگ اگر غفلت کریں گے تو ضروری ہے کہ اُن کا ہمسایہ بھی غفلت کرے گا۔وہ یہ خیال نہیں کرے گا ہی کہ ہمسایہ واقف نہیں بلکہ اُسے دیکھ کر خود بھی اس بات کو جائز سمجھنے لگتے ہیں۔پھر نئی پود بھی ترقی کرتی رہتی ہے۔جو بچے آج تیرہ سال کے ہیں وہ دس سال قبل تین سال کے تھے۔ان کو نی سمجھانا بھی ضروری ہے۔وہ اگر نہیں سمجھیں گے تو انہیں دیکھ کر اُن کے اور ساتھی خراب ہوں گے۔پس تربیت کے لیے ضروری باتوں کا دہرانا اور بار بار سکھانا ضروری ہوتا ہے۔پس چاہیے کہ ہر محلہ والے متواتر جلسے کریں اور تمام افراد کو سکھائیں۔عورتوں کو ، مردوں کو ، سب کو اچھی طرح ان باتوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔خدام الگ جلسے کریں، انصار الگ کریں، اطفال الگ کریں، لجنہ کے الگ جلسے ہوں اور محلوں والے الگ کریں۔اور اچھی طرح یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کریں کہ جماعتی بوجھ کا کم کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے اور بہت ثواب ہے۔ہر روٹی کا ٹکڑا جو ضائع ہو گا، دال کا ہر چمچہ جو ضائع ہو گا یا جو غیر حق دار کے پاس پہنچے گا اتنا ہی کلمہ شہادت کے پھیلانے میں رکاوٹ پیدا ہو گی ، اتناہی تبلیغ کے کام میں کمزوری پیدا ہو گی۔اگر میں ہر ایک کے کان میں یہ بات ڈال دی جائے، جماعت میں ایسی بیداری پیدا کر دی جائے کہ ہر شخص یہ سمجھے کہ اگر ایک چیونٹی بھی سلسلہ کے خزانہ سے گندم کا ایک دانہ لے جاتی ہے تو وہ اُس کے لیے جواب دہ ہے تو بہت سا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔اگر یہ روح افرادِ جماعت میں پیدا ہو جائے تو قومی دیانت ایسے مقام پر پہنچ جاتی ہے کہ پھر ایمان کو کبھی مٹھن نہیں لگ سکتا۔کیونکہ گھن ہمیشہ گندم کے دانے کو لگتا ہے، سری گندم کو کھا سکتی ہے۔ایمان کے دانہ کو نہ گھن لگتا ہے اور نہ اسے سسری کھاتی ہے۔پس جس قوم کے افراد کے قلب میں ایمان کی ہے