خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 744 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 744

$1944 744 خطبات محمود یا پھر وہ عورتیں آسکتی ہیں جن کے ساتھ چھ سات سال سے کم عمر کے بچے نہ ہوں۔یا وہ آسکتی ہیں جن کو سواری کی سہولتیں میسر ہوں۔ایسی عورتوں کے سوا پنجاب کی عورتیں نہ آئیں۔پنجاب سے باہر کے لیے میں نے یہ پابندی نہیں رکھی کیونکہ ان کے لیے قادیان آنے کی کا موقع جلسہ سالانہ ہی ہوتا ہے مگر پنجاب کی عورتیں دوسرے موقع پر بھی آسکتی ہیں۔مثلاً مجلس شوری کے موقع پر مرد کم آتے ہیں اس لیے عور تیں آسانی سے آسکتی ہیں۔کیونکہ ان کے لیے اُن ایام میں گاڑیوں میں زیادہ گنجائش نکل سکتی ہے اور وہ قادیان کو دیکھنے ، یہاں کی صحبت سے فائدہ اٹھانے اور برکت حاصل کرنے کے لیے آسانی کے ساتھ آسکتی ہیں۔ایسے مواقع پر جب تکالیف کا وقت ہو حج بھی جو فرض ہے منع ہو جاتا ہے۔احادیث اور کتب فقہ میں آتا ہے کہ حج صرف اس کے لیے ہی کرنا فرض ہے جس کے پاس حج کے اخراجات کے لیے ہے کافی رقم ہو اور وہ اپنے گھر والوں کو بھی کافی خرچ دے سکتا ہو اور جسے سفر کے لیے ہر قسم کی ہے ا سہولتیں حاصل ہوں۔اگر ان شرائط کے بغیر کوئی حج کے لیے جاتا ہے تو چونکہ وہ حج کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے اس لیے فقہ والوں کے نزدیک وہ گنہگار ہوتا ہے۔قرآن کریم میں حج کے متعلق ایک عام اصول بیان گیا ہے۔چنانچہ فرمایا مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيْلاً 2 یعنی جب تمام ضروری سامان مہیا ہوں تو حج کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔تو جب ایسا موقع بھی ہوتا ہے کہ جب حج جو ایک فرض ہے منع ہو جاتا ہے تو ہمارا جلسہ تو بہر حال نوافل میں سے ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ مومنوں کی جانیں نوافل کے لیے قربان کرنے کا خطرہ برداشت کیا جائے۔جو مر د جلسہ پر آئیں وہ واپس جاکر وہ باتیں جو وہ یہاں سنیں عورتوں کو سنا سکتے ہیں اور یہاں آنے سے علوم میں زیادتی کا جو موقع عورتوں کو میسر آسکتا ہے اُسے وہ اپنے خاوندوں یا بھائیوں یا بیٹوں یا باپوں سے حاصل کر سکتی ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعتیں اصرار اور توجہ کے ساتھ میری اس ہدایت پر کاربند ہونے کی کوشش کریں گی اور عورتوں کو اس بات پر آمادہ کریں گی کہ وہ قربانی ہے کریں اور اپنی اور اپنے مردوں کی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالیں۔ہاں جیسا کہ میں نے بتایا ہے استثنائی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں اور اشد ضرورت کے ماتحت جیسے کوئی شادی ہو۔مثلاً کسی کا کوئی رشتہ دار جو فوج میں ملازم ہے جلسہ پر آیا ہے اور اُسے دو تین روز کی ہی رخصت ہے اور